2.26.2021

سالی سے بوسہ و کنار کرنے والے پر کیا حکم ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی بندہ اپنی سالی سے بوسہ و کنار یا کر لے تو اسکے بارے میں کیا حکم ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی


المستفتی محمد عاتف صدیقی مہراج گنج


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


الجواب بعون الملک العزیز الوہاب اللہم ھدایة الحق و الصواب 


سالی کے ساتھ بوس و کنار کرنے سے یا اس کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی اگرچہ سالی یا کسی غیر عورت کے ساتھ یہ اس طرح کے افعال شنیعہ{ بوس و کنار و زنا }کو انجام دینا یہ حرام ہے لہذا سالی پراور زانی{ بہنویٸ} دونوں پر توبہ و استغفار لازم ہے ہاں سالی سے وطی بالشبھہ کی وجہ سے سالی پر عدت لازم ہے اور جب تک سالی کی عدت گزر نہ جائے زانی پر اسکی اپنی بیوی حرام رہے گی جیسا کہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ نے سالی کے ساتھ زنا کرنے کے تعلق سے سوال جواب میں فرمایا سالی سے زنا کرنے کے سبب شخص مذکور کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوئی جیسا کہ در مختار مع رد المحتار جلد دوم صفحہ نمبر ٢٨١ میں ہے فی الخلاصة وطی اخت امراتہ لاتحرم علیہ امراتہ البتہ شخص مذکور اور اس کی سالی پر توبہ و استغفار لازم ہے ہاں اگر سالی کے ساتھ دیدہ و دانستہ زنا نہ کیا بلکہ بیوی سمجھ کر دھوکے میں ہمبستری کر لی تو اس صورت میں سالی پر وطی بالشبھہ کی عدت لازم ہے اور تا وقتیکہ سالی کی عدت نہ گزر جاۓ شخص مذکور پر اس کی بیوی حرام شامی جلد دوم ص ٢٨١ پر بحر سے ہے لو وطی اخت امراتہ بشبھة تحرم امراتہ ما لم تنقض عدت ذات الشبھة


واللہ تعالی اعلم بالصواب 


کتبہ ۔محمد ساجد چشتی شاہجھانپوری خادم مدرسہ دار ارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only