2.26.2021

مزاروں میں منت مانگنا کیسا ہے




السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اولیاء کرام و بزرگانِ دین کی درگاہ پر منت مانگنا کیسا ہے قرآن حدیث کے مطابق جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی آپ کی


المستفتی عبدالستار رضا


وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ


الجواب بعون الملک الوھاب


اولیاء کرام و بزرگانِ دین کی درگاہ پر منت مانگنا شرعی منت نہیں ہے مگر اولیاء کرام و بزرگانِ دین کی درگاہ پر منت مانگنا منع بھی نہیں جب کہ کوئی خلاف شرع کام نہ ہو جیسا کہ حضور صدرِ الشریعۃ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوث اعظم رضی اللہ تعا لٰی عنہ کا توشہ یا شاہ عبدالحق رضی اللہ تعا لٰی عنہ کا توشہ کرنے ،یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے۔ ہاں البتہ اس کا خیا ل رہے کہ کوئی بات خلاف شرع اوسکے ساتھ نہ ملائےبہار شریعت جلد دوم حصہ دوم صفحہ ٣٢٠) 


واللہ و رسولہ اعلم باالصواب 


کتبہ حقیر محمد عمران قادری تنویری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only