وہابیہ سے شادی کر کے اپنے گھر لاکر نکاح پڑھنا کیسا ہے



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے اہل سنت اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اگر ایک سنّی لڑکا ایک وہابی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ھے اور کہتا ھے کہ دوبارہ سے سنّی عالم سے نکاح پڑھوا لونگا اور گھر لاکر سنّی بنا لونگا یا ہو جاٸیگی۔ تو اس پر شریعت کا کیا حکم ھے ؟ جواب عنایت فرماٸیں۔


المستفتی عبداللہ ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہﷺ*سرچ محمد


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد کفریہ قطعیہ کے سبب بمطابق فتاویٰ حسام الحرمین الشریفین کافر و مرتد ہیں اور مرتد سے نکاح ہرگز جائز نہیں فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ ٢٨٢ میں ہے لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ و لا مسلمۃ و لا کافرۃ اصلیۃ و کذلک لا یجوز نکاح المرتد مع احد فی المبسوط اھ یعنی مرتد کا نکاح مرتدہ مسلمہ اور کافرہ اصلیہ کسی سے جائز نہیں۔ایسے ہی مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا اور اسی طرح امام محمد علیہ الرحمۃ کی کتاب مبسوط میں ہے الماخوذ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٤٣٤) لھذا کسی بھی سنی لڑکے کا نکاح کسی وہابی دیوبندی لڑکی سے نہیں ہو سکتا جب تک کہ لڑکی اپنے عقائد کفریہ قطعیہ سے توبہ استغفار کرکے صحیح طور سے سنی صحیح العقیدہ مسلمان نہ بن جائے، اور کوئی سنی عالمِ نکاح بھی نہیں پڑھاۓ گا اور اگر پڑھا دیا بایں طور لڑکی اپنے عقائد کفریہ پر قائم رہی تو عالم پر توبہ واجب ہے اور نکاح نہ ہونے کا اعلان کرے اور اگر ایسا نہ کریں تو لڑکے والے اور عالم صاحب کا بائٹ کاٹ کریں جیسا رب تعالیٰ کا فرمان پاک ہےاِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ سورہ انعام آیت ۶۸


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ حقیر محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے