اسماء الحسنٰی پڑھنے کا بہتر طریقہ کیا ہے ؟




(سوال) اسماء الحسنٰی پڑھنے کا مسنون اور بہتر طریقہ کیا ہے؟ کیا ان اسماء کو آل کے ساتھ پڑھا جائے یا حرفِ ندا یا کے ساتھ؟ ہر نام کے بعد جلّ جلالہ کہنا ہے یا صرف آخری نام کے بعد؟ نیز ہر اسم پر وقف کیا جائے یا آخری پر؟

(جواب) اسماء الحسنی اگر ذکر کی نیت سے پڑھے جائیں تو ال کے ساتھ پڑھنا بہتر ہے جیسے الرحمن الرحیم الملک اور اگر دعا کی نیت سے پڑھیں تو یا کے ساتھ پڑھنا بہتر ہے یا رحمن یا رحیم یا کریم کیونکہ نداء میں طلب ودعا کا پہلو زیادہ ہے ہر اسم کے بعد جل جلالہ کہہ دے تو بہتر ہے اور چھوڑ بھی سکتا ہے اس میں وسعت ہے وقف کے اعتبار سے بھی شریعت میں کوئی پابندی نہیں؛ ہر اسم کو الگ پڑھنا زیادہ واضح ہے اور اگر چاہے تو مسلسل پڑھ کر آخر میں وقف کر دے جہاں شریعت نے ذکر ودعا کے لیے کوئی خاص ہیئت مقرر نہ کی ہو وہاں نیت ادب اور ذکر کی حالت کا لحاظ کافی ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0