7.18.2021

دوسروں کا حق مارنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کی بارگاہ میں سوال ہے کہ دوسروں کا حق مارنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی المستفتی محمد عمران خان توری پور ضلع اعظم گڑھ

       جواب

حق تلفی کرنا حرام ہے یعنی کسی کے مال و زمین و جاٸداد وغیرہ کسی بھی طریقے سے قبضہ کرلینا حرام اشد حرام ہے اور ایسے شخص پر قرآن و احادیث میں بہت ساری وعیدیں وارد ہوئی ہیں خود رب قدیر ارشاد فرماتا ہے لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر مذکورہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں صدر الافاضل حضرت سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔۔۔۔ کہ باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر یا چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع حرام ہے

القرآن کنزالایمان پ ٢ س بقرہ آیت ١٨٨
اور حدیث شریف میں ہےاللہ کے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں من ظلم شبرًا من أرض طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لے لیں قیامت کے دن سات زمینوں سے اتنا حصہ بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور ارشاد فرماتے ہیں من اخذ من الارض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع ارضين جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا

صحیح البخاری جلد اول ص٤٥٣ مجلس برکات مبارکپور
اسکے علاوہ قرآن قرآن مقدس کی متعدد آیات کریمہ وبےشماد احادیث میں حق تلفی کرنے والوں پر سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس مدرسہ دارالعلوم ارقم میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only