سیّد داڑھی کٹوائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  میرا ایک سوال ہے کہ ایک لڑکا سید خاندان سے ہے اور حافظ قرآن بھی ہے اور داڑھی کٹواتے ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہےجواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی سائل محمد ریاض الحسین رضوی بنگال

       جواب

داڑھی منڈانے یا حد شرع سے کم رکھنے والے امام کے پیچھے کوٸی نماز فرض و واجب سنت تراویح وغيرہ پڑھنا جاٸز نہیں اسے امام بنانا گناہ اس کے پیچھے پڑھی گٸ نماز مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ لہذا سید صاحب کو چاہٸے کہ اپنے نانا جان حضور انور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی پیاری سنت داڑھی عین سنت کے مطابق رکھیں سادات کرام ذوی الاحترام کو چاہیۓ کہ دوسروں سے زیادہ نیکیاں کریں تاکہ وہ حضرات دوسروں کے لۓ مثال بنیں اور انھیں لازم ہے کہ اپنے اسلاف کا نمونہ بنیں امام حسین نے خنجر کے نیچے نماز پڑھی شریعت کو سب پر مقدم رکھا ان کی اولاد اگر شریعت سے منہ موڑے تو نہایت افسوس کی بات ہے لیکن سید کیسا بھی ہو اسکی تعظیم و تکریم لازم و ضروری ہے بخاری شریف میں ہے👇 عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کم کرو۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جو زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے

(صحیح البخاری کتاب اللباس ،باب ، تقلیم الاظفار ، المجلد الثانی ،الصفحة 875، مطبوعہ یاسر د )
اسی میں ہے عن ابن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ انھکوالشوارب و اعفوا اللحی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مکرم ﷺ مونچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاٶ

(الجامع الصحیح للبخاری کتاب اللباس باب اعفا ٕ اللحی اکثرو الخ الملجد الثانی الصفحة 875 مطبوعہ یاسر د )
فقیہ اسلام علامہ علاٶ الدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں یحرم الرجل قطع لحیتہ مرد کے لۓ ڈاڑھی کاٹنا حرام ہے

(الدر المختار کتاب الحظر و الاباحة فصل فی البیع جلد 9 صفحہ 498 مطبوعہ دار الکتب د )
امام کمال الدین مُحَمَّد بن عبد الواحد السیراسی السکندری علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد داڑھی ایک مٹھی سے کم تراشنا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنخے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح قرار نہیں دیا

( فتح القدیر ، کتاب الصوم باب ما یوجب القضا ٕ والکفارة جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ دار الکتب د و البحرالراٸق شرح کنز الدقاٸق کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم ومالا یفسد جلد 2 صفحہ 490 مطبوعہ یاسر د )
علامة الزمان امام احمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں والاخذ من اللحیة وھو دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربة و مخنثة الرجال لم یبیحہ و اخذ کلھا فعل الیھود الھند و مجوس الاعاجم فتح اور ڈاڑھی جب حد شرح سے کم ہو تو اسکو کاٹنا جیسا کہ بعض مغربی اور زنانہ وضع مرد کرتے ہیں کسی نے اس عمل کو مباح قرار نہیں دیا اور پوری داڑھی ہی صاف کرادینا یہ یہودیوں اور عجم کے مجوسیوں کا عمل ہے

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح الصفحة 671 مطبوعہ دار الکتب
سیدی صدر الافاضل سید نعیم الدین قادری اشرفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں داڑھی رکھنا شعاٸر اسلام میں سے ہے اسکا کا ٹنا قدر قبضہ پہنچنے سے قبل حرام در مختار میں ہے یحرم علی الرجل قطع لحیتہ جب ثابت ہو گیا کہ داڑھی ایک مشت سے کم کتروانا یا منڈوانا ممنوع ہے تو اسکا عامل فاسق اور مصر فاسق معلن ہوا اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی کما فی عامة المتون والشروح والفتاوی من کراھة الفاسق اور فاسق کو امام بنانا گناہ

(فتاوی صدر الافاضل الصفحة 424 مطبوعہ تنظیم افکار صدر الافاضل ممبٸ )
الحاصل حد شرع سے کم داڑھی رکھنے والا فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ

مراقی الفلاح کتاب الصلوة فصل فی بیان الاحق الامامتة الصفحة 302 مطبوعہ دار الکتب د میں ہے
کرہ امامة الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامة فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے اسلۓ وہ دینی معاملات میں لاپرواہ ہے شرعا اسکی اہانت واجب ہے لہذا امامت کے لۓ آگے بڑھا کر اس کی تعظیم نہیں کی جاۓ گٸ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان مُحَمَّد قاسم القادری اشرفی نعیمی چشتی غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ مٶرخہ 24 ذی القعدہ 1442 ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے