تیّیم کر کے قرآن مجید پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا تیمم کر کے قرآن پاک پڑھ سکتے ہیں ؟عذر شرعی کی وجہ سے۔ محمد مزمل حسین رضوی مقام۔ جاجپور،اڈیشہ

       جواب

تیمم کر کے قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں جبکہ پانی پر قادر نہ ہو،، یا کوئی عذر شرعی ہو کہ پانی ہو پر پانی استعمال نہ کر سکتا ہو۔ فتاوی رضویہ شریف میں بدائع ملک العلماء قدس سرہ، کے حوالے سے ہے لوتیمّم ونوی مطلق الطھارۃ اونوی استباحۃ الصلاۃ فلہ ان یفعل کل مالایجوز بدون الطھارۃ وکذا لوتیمّم لسجدۃ التلاوۃ اوالقراءۃ القراٰن بان کان جنبا جازلہ ان یصلی بہ سائر الصلوات لان کل واحد من ذلک عبادۃ مقصودۃ فاما اذا تیمم لدخول المسجد اومس المصحف لایجوزلہ ان یصلی بہ ویقع طھور الماء اوقعہ لہ لاغیر؎۔ اگرتیمم کیا اور مطلق طہارت کی نیت تھی یا نماز کا جواز حاصل کرنے کی نیت تھی تو اس تیمم سے ہر اس عمل کی ادائیگی کرسکتا ہے جو بغیر طہارت جائز نہیں۔اسی طرح اگر سجدہ تلاوت کیلئے یاتلاوت قرآن کیلئے تیمم کیا اس وجہ سے کہ حالتِ جنابت میں تھا تو وہ اس تیمم سے ساری نمازیں پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ ان میں ہر ایک عمل عبادتِ مقصودہ ہے لیکن جب مسجد میں داخل ہونے یا مصحف چھُونے کے لئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں جس عمل کے لئے یہ تیمم کیا ہے اس کیلئے تو وہ طہارت ہوگا مگر کسی اور عمل کیلئے طہارت نہ بن سکے گا۔ دُرمختار میں ہے قالوا لوتیمّم لدخول مسجد اوقراء ۃ ولومن مصحف اومسہ کتابتہ تعلیمہ زیارۃ قبورعیادۃ مریض دفن میت اذان اقامۃ اسلام سلام ردہ لم تجز الصلٰوۃ بہ فتاوٰی الرملی وظاھرہ انہ یجوز فعل ذلک؎۔ علما نے فرمایا ہے: مسجد میں داخل ہونا، قرآن پڑھنا، اگر چہ مصحف سے پڑھے، قرآن چھُونا، لکھنا، سکھانا، زیارتِ قبور، عیادت مریض، دفنِ میت، اذان، اقامت، اسلام، سلام، جوابِ سلام اگر ان امور کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں فتاوٰی رملی __اس کا ظاہر یہ ہے کہ خود ان امور کی ادائیگی جائز ہے

(الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۹)
ردالمحتار میں ہے التیمّم لھذہ المذکورات التی لاتشترط لھا الطھارۃ صحیح فی نفسہ یجوزفعلہ عند فقد الماء والا فلا نعم ما عــہ یخاف فوتہ بلابدل من ھذہ المذکورات یجوز مع وجودالماء ۱؎ ملخصاً یہ مذکورہ افعال جن میں طہارت کی شرط نہیں ہے ان کے لئے تیمم فی نفسہ درست ہے جو پانی نہ ملنے کے وقت جائز ہے مگر پانی ہوتے ہوئے جائز نہیں، ہاں ان امور میں سے وہ جس کے بارے میں کسی بدل کے بغیر فوت ہونے کا اندیشہ ہو اس کے لئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے

(ج ۳ ص ۵۶۳ تا ۶۵ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد اشفاق عطاری نیپال

۲۷ جون ۲۰۲۱ عیسوی بروز اتوار

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0