7.31.2021

غیر شرعی شادی میں نکاح پڑھانے کا جرمانہ لینا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے علاقے میں علماء کرام کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں با تفاق رائے یہ فیصلہ ہوا کہ جس شادی میں ڈیجے اور ناچ گانے کا اہتمام ہوگا اس شادی میں کوئی بھی عالم یا حافظ شریک ہوکر نکاح نہیں پڑھائیگا اس بات پر تمام لوگ متفق ہوگئے مگر بعد میں کمیٹی کے کچھ ذمہ دار حضرات نے یہ فیصلہ سنایا کہ جو بھی حافظ یا عالم ایسی شادی میں شرکت کرکے نکاح پڑھا یا تو اس سے دس ہزار فائن لیا جائیگا لہذا طلب امر یہ ہیکہ اگر ایسی غیر شرعی امور پر مشتمل شادی میں جاکر نکاح پڑھانے پر اس سے دس ہزار فائن لیا جا سکتا ہے یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ کا موقع دیں المستفتی محمد معراج القادری الہ آباد یوپی

       جواب

صورت مسؤلہ میں فائن لینا جائز نہیں ناجائز ہے کیونکہ کسی جرم کی سزا میں مجرم سے مال وصول کرنا ناجائز ہے فقہ کی بے شمار کتب میں صراحت ہے کہ جرمانہ ناجائز ہے فی شرح معانی الاثار التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ تعزیر بالمال ابتداء اسلام میں جائز تھی پھر منسوخ ہوگئی ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر شرح ہدایہ امام عینی میں ہے العمل بالمنسوخ حرام منسوخ پر عمل حرام ہے۔ البنایۃ فی شروح الہدایة جیسا کہ فتاوی رضویہ میں حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃوالرضوان تحریر فرماتے ہیں تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں درمختار میں ہے لاباخذ مال فی المذھب مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے درمختار باب التعزیر اُسی میں ہے وفی المجتبٰی انه کان فی ابتداءالاسلام ثم نسخ اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا،پھر منسوخ کردیا گیا درمختار باب التعزیر

فتاوی رضویہ جدید جلد پنجم ص۱۱۴
لہذا کسی مجرم سے مالی جرمانہ لینا جائز نہیں اس کی اصلاح کے لئے اگر کچھ رقم لے لی جائے اور پھر بعد اصلاح اسے لوٹا دیا جائے تو اس کی اجازت ہے ردالمحتار میں بحر سے ہے وافاد فی البزازیة،ان معنی التعزیر باخذ المال،علی القول به،امساك شیئ من ماله عندہ مدۃ لینزجر،ثم یعیدہ الحاکم الیه لا ان یاخذہ الحاکم لنفسه اولبیت المال کمایتوھمه الظلمة،اذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدّت کے لئے روک لینا تاکہ وہ باز آجائے،اس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادے،نہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لےلے یا بیت المال کیلئے،جیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیں،کیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں

فتاوی رضویہ جدید جلد (٥) ص ۱۱۳ تا۔ ۱۱۴ فتاوی رضویہ جدید جلد ۱۹ ص ۵۰۷ تا ۵۰۸ فتاوی علیمیہ جلد دوم ص ۲۳۷
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبه محمد عسجد رضا نظامی پورنوی عفی عنہ

مقام نعمت پور بائسی پورنیہ بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only