کیا بچے کو ماں کے پیٹ سے نکالنا جائز ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں ابھی ایک چار مہینے کے حمل والی عورت کا انتقال ہوا ہے کیا اس بچے کو ماں کے پیٹ سے نکالنا ہوگا یا نہیں جواب فوراً عنایت فرمائیں سائل۔۔ سید اسماعیل رضا جمبرگٹہ

       جواب

عورت اگر مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کررہاہو تو عورت کے بائیں جانب سے پیٹ چاک کرکے بچے کو نکالا جائےجیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ عورت مرگئی اور اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کررہا ہے توبائیں جانب سے پیٹ چاک کرکے بچہ نکالا جائے اور اگر عورت زندہ ہے اور اس کے پیٹ میں بچہ مرگیا اور عورت کی جان پر بنی ہو تو بچہ کاٹ کرنکالا جائے اور بچہ بھی زندہ ہو تو کیسی ہی تکلیف ہو بچہ کاٹ کر نکالنا جائز نہیں

بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر 117
نوٹ چار مہینے کے حمل والی عورت ہے تو یہ دیکھنا ہے کہ بچہ اس کے پیٹ میں حرکت کرتا ہے یا نہیں عموماً جو بچے چار مہینے کے ہوتے ہیں وہ اس قابل نہیں رہتے کہ آپ انہیں نکالیں اور اگر حرکت کرتا ہے تو اس کو نکال لیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد الطاف حسین قادری عفی عنہ

ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے