پیارے آقا جب مکہ مکرمہ سے مدینہ گئے تھے تو ہمراہ کون کون تھا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں (١) جب سرکار ﷺمکہ سے مدینہ گئے تو اکیلے نکلے یا ہمراہ ساتھ میں تھے؟ (٢) اور دوسرا سوال یہ ہے کہ سرکار کی جس جگہ قبر انور ھے ان کے پہلو میں کن کن لوگوں کی مزار ھے اور کیا سرکار نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اجازت دی اپنی پہلو میں تو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے اجا زت لی یہ جواب دلیل کے ساتھ عنایت فرما دیں بہت مھر بانی ھو گی المستفتی ۔۔۔۔ مولانا کلیم شیر پورا بہرائچ شریف یوپی

       جواب

(١) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ شریف کی طرف طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے ساتھ میں فقط سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تھے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ کی جانب سے ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو آپﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق راتوں رات اس نشیبی کھڑکی کی راہ سے نکلے جو حضرت ابوبکر کے گھر میں تھی اور اب تک وہ مکان اور کھڑکی قائم ہے جس کی لوگ زیارت کرتے ہیں اس کے بعد دونوں حضرات غارثور کی طرف روانہ ہوگۓ تفصیل کے لیۓ مدارج النبوت ، ودیگر کتبِ سیرت کا مطالعہ کریں (٢) گنبد خضریٰ کے نیچے اس مبارک احاطہ میں تین قبور ہیں ١ حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ ٢حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ٣ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور میں کوٸ شک نہیں وہ مقدس جگہ جہاں حضرت عمر مدفون ہیں حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنھا کے حق میں تھی آپ کی اجازت سے حضرت عمر کو دفن کیا گیا جیساکہ روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے تم جاؤ اور حضرت عائشہ صدیقہ سے اس بات کی اجازت لے کر آؤ کہ عمر اپنے دونوں ساتھیوں یعنی نبی کریمﷺ و ابوبکر کے ساتھ دفن ہوناچاہتا ہے حضرت عبداللہ جب حضرت عاٸشہ کی بارگاہ پہچے تو دیکھا کہ عاٸشہ صدیقہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں جناب عبداللہ نے آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ عمرفاروقِ اعظم اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں حضرت عاٸشہ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ جگہ میں نے اپنے دفن ہونے کےلیے رکھی تھی لیکن آج میں عمر فاروقِ اعظم کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں اور انہیں یہاں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہوں جضرت عبداللہ کہتے ہیں میں واپس آیا اور امیر المؤمنین حضرت عمر کو بتایا کہ حضرت عاٸشہ نے آپ کو روضہ رسول ﷺ وابوکر میں دفن کروانے کی اجازت دیدی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا مَا كَانَ شَيْءٌ اَهَمَّ اِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ یعنی اے عبداللہ میرے نزدیک اس جگہ سے زیادہ کوئی جگہ مبارک نہیں ہے پھر فرمایا اے عبد اللہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میری میت کو چارپائی پر رکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ کے دروازے پر رکھ دینا اور پھر عرض کرناکہ عمر بن خطاب اجازت طلب کرتا ہے اگر اجازت مل جائے تو مجھے وہیں دفنا دینا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان جنت البقیع میں دفنادینا چنانچہ اجازت مل گئی اور آپ کو رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کردیا

ماخوذ از فیضان عمر فاروق اعظم جلداوّل ، ص ٧٧٧ (مکتبة المدینہ دھلی)
اور ہاں رویات میں ملتا ہے کہ اس مبارک احاطہ میں ایک قبر کی جگہ اور بھی خالی ہے جہاں پر سیدنا حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام بعد نزول آسمان وصال فرما کر مدفون ہوں گے
حدیث شریف میں ہے عن عبداللہ بن سلام عن ابیہ عن جدہ قال مکتوب فی التورٰة صفة محمد و عیسیٰ بن مریم یدفن معہ قال فقال ابو مودود قدبقی فی البیت موضع قبر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تورات شریف میں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ کاذکر ہے وہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ صفت بھی مذکورہے کہ آپ علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدفون ہونگے جامع الترمذی ، المجلدالثانی ، ابواب المناقب ، ص ٢٠٢ (مجلس برکات مبارکپور) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے