Headlines
Loading...
Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص نے فرض نماز میں نیت نہیں کی تو کیا نماز مکمل ہوگی یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں المستفی محمد تبریز عالم دہلوی

       جواب

اگر کسی نے نماز میں نیت نہیں کی تو اس کی نماز نہ ہوگی کہ
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا انماالاعمال بالنیات ولکل امرء ما نوی صحیح البخاری -کتاب بدء الوحی
اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اگر شروع کے بعد نیت پائی گئ اس کا اعتبار نہیں ؛ یہاں تک کہ اگر تکبیر تحریمہ میں اللہ کہنے کے بعد اکبر سے پہلے نیت کی نماز نہ ہوگی بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر ۴۹۳ مطبوعہ مکتبہ المدینہ نیز فرض نمازوں میں فرض کی نیت کرنا بھی ضروری ہے مطلق نماز کی نیت کافی نہیں
جیسا کہ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں فرض نماز میں نیت فرض بھی ضرور ہے مطلق نماز یا نفل وغیرہ کی نیت کافی نہیں؛ اگر فرضیت جانتا ہی نہ ہو مثلاً پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے مگر ان کی فرضیت علم میں نہیں؛ نماز نہ ہوگی اور اس پر ان تمام نمازوں کی قضا فرض ہے ؛ مگر جب امام کے پیچھے ہو اور یہ نیت کرے کہ امام جو نماز پڑھتا ہے وہی میں بھی پڑھتا ہوں تو یہ نماز ہو جائے گی بہار شریعت بہت جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر ۴۹۳ مطبوعہ مکتبہ المدینہ ہاں نیت میں زبان سے کہنا ضروری نہیں؛ زبان سے کہنا مستحب ہے کیونکہ کی نیت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہیں جمیل نوری نستعلیق 👇
جیسا کہ بہار شریعت میں ہے نیت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہیں محض جاننا نیت نہیں؛ تا وقت یہ کہ ارادہ نہ ہو نیّت میں زبان کا اعتبار نہیں یعنی اگر دل میں مثلا ظہر کا قصد کیا اور زبان سے لفظ عصر نکلا ظہر کی نماز ہوگئ جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر ۴۹۲ مطبوعہ مکتبہ المدینہ لہذا شخص مذکور نے اگر زبان سے نیت کے الفاظ نہ کہے مگر دل میں پکا ارادہ تھا تو نماز ہو جائے گی ورنہ نہیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

0 Comments:

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ