گلے میں تعویذ پہننا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسلے کے بارے میں گلے میں تعویذ پہننا کیسا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفی عبد الصمد رضوی

       جواب

تعویز پہننا ۔۔ جاٸز ودرست ہے بشرطیکہ آیات قرآنی یا اسماۓ الہی یا دعایہ کلمات ہوں ۔۔ جیسا کہ بہار شریعت میں علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ اور ادعیہ سے تعویذ کیا گیا ہو اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں جو زمانۂ جاہلیت میں کیے جاتے تھے اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفاپلانا بھی جائز ہے جُنب و حائض و نفسا بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ تعویذات غلاف میں ہوں بہار شریعت جلد ٣ حصہ ١٦۔۔ صفحہ ٦٥٢ ۔۔متفرقات کا بیان مطبوعہ دعوت اسلامی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد راحت رضا

نیپالی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے