گلے میں تعویذ پہننا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسلے کے بارے میں گلے میں تعویذ پہننا کیسا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفی عبد الصمد رضوی

       جواب

تعویز پہننا ۔۔ جاٸز ودرست ہے بشرطیکہ آیات قرآنی یا اسماۓ الہی یا دعایہ کلمات ہوں ۔۔ جیسا کہ بہار شریعت میں علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ اور ادعیہ سے تعویذ کیا گیا ہو اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں جو زمانۂ جاہلیت میں کیے جاتے تھے اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفاپلانا بھی جائز ہے جُنب و حائض و نفسا بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ تعویذات غلاف میں ہوں بہار شریعت جلد ٣ حصہ ١٦۔۔ صفحہ ٦٥٢ ۔۔متفرقات کا بیان مطبوعہ دعوت اسلامی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد راحت رضا

نیپالی الھند

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0