حضرت ابراہیم علیہ السلام ونمرود کا واقعہ

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مشائخ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے کہیں پر پڑھا تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مناظرہ نمرود ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو پورب سے نکالتا ہے اگر تو واقعی خدا ہے تو سورج کو پچھم سے نکال دے اب دریافت یہ کرنا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مقام صہبہ میں سورج کو پچھم سے نکال دیا تو کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول کے مطابق یہ خدا ہو سکتے ہیں کیا ؟ اس تعلق سے اگر کوئی حوالہ اگر کسی بھائی کے پاس ہو تو مطلع فرمائیں بہت مہربانی ہوگی المستفی فقیر قادری ناچیز محمد مسعود عالم رحمانی مقام بھیلوا خطیب وامام مدینہ مسجد کھجوریا ضلع بانکا بہارالہند

       جواب

نہیں ہر گز نہیں کیونکہ ابو الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے نمرود کی عاجزی اور اسکے زعم باطل کو ظاہر کرنے کے لئے نے مناظرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اس پر نمرود نے کہا کہ میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں اور دو لوگوں کو بلاکر ایک کو قتل کر دیا اور ایک کو چھوڑ دیا اسکے بعد حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پورب سے سورج کو نکالتا ہے تو جب تو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو سورج کو پچھم سے نکال دے یہ سنتے ہی وہ مبہوت ہو گیا اور اس کے ہوش اڑ گئے جسکا ذکر رب کریم نے
قرآن مجید کے تیسرے پارہ سورہ بقرہ آیت نمبر ٢٥٨میں فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ نمرود کی عاجزی کو ظاہر فرمایا اور مقام صہبا میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلاء المشکلات والنوائب کے لئے سورج کو پلٹایا تو خدائی کا دعویٰ کر کے نہیں بلکہ یوں ارشاد فرمایا جیساکہ علامہ عبدالرحمن جامی رحمۃاللہ علیہ نے تحریر فرمایا *اے علی تمہاری عصر کی نماز فوت ہو گئ ہے انہوں نے عرض کی حضور!میں نے بیٹھے بیٹھے اشاروں سے ادا کرلی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعا کروں کہ اللہ رب العزت سورج کو لوٹا دے تاکہ تم نماز عصر بر وقت ادا کر لو حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی تو آفتاب پلٹ آیا اور ایسا معلوم ہوا جیسے نماز عصر کا وقت تھا اس طرح حضرت علی نے نماز بر وقت پڑھیں (شواھد النبوۃ صفحہ نمبر ٢٩١) یہاں پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدائی کا دعویٰ کرکے نہیں بلکہ عبدیت کا اظہار فرماتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں دعا فرمائی اور رب کریم نے آپ کی دعا قبول فرماکر سورج کو لوٹایا لہذا دونوں واقعہ میں اصلا کوئی علاقہ ہی نہیں ہے کیونکہ پہلے نمرود کی عاجزی کو ظاہر کرنا اور اس کے دعوے کی تکذیب مقصود تھی جبھی تو فبھت الذی کفر ارشاد ہوا اور دوسرے میں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معجزہ اور خداوند قدوس کی بارگاہ میں آپ کی مقبولیت کو ظاہر کرنا مقصود تھا نیز نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کیا بلکہ اپنی عبدیت کو ظاہر کرتے ہوئے اپنے معبود حقیقی کی بارگاہ میں دعا فرمائی اس لئے اس واقعہ سے ہر گز آپ کے خدا ہونے کا قول نہیں کیا جاسکتا واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقام کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے