دودھ میں پانی ملانا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دودھ میں پانی ملانا کیسا ہے علمائے کرام اس کا جواب عنایت فرمائیں آپ سب کی بہت مہربانی ہو گی فقط والسلام المستفی محمد صابر خان بہار الھند

       جواب

اپنے استعمال کے لئے دودھ میں پانی ملانا جائز ہے اور اسکا کھانا بھی درست ہے لیکن اگر کسی اور کو بیچنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ جیسے بھی بیچنا ہو تو اسے بتا دیں کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے پھر اسکی مرضی لے یا نا لیں اور اگر نہیں بتاتا ہے اور ایسے ہی دودھ کی فروخت کرتا ہے تو پھر وہ گنہگار ہے
جیسا قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ ترجمہ_- اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ( سورہ بقرہ ، آیت ١٨٨) اور
حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ علیہ رحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ اچھے، صاف گیہوں میں خاک دھول ملا کر بیچنا ناجائز ہے، اگر چہ وہاں ملانے کی عادت ہو (عالمگیری) اسی طرح دودھ میں پانی ملا کر بیچنا ناجائز ہے سائل کا نام (بحوالہ بہار شریعت حصہ 16 صفحہ نمبر 483 مطبوعہ المدینہ کراچی پاکستان) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے