حج کے پیسے غریبوں میں تقسیم کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا۔ فر ما تے ہیں علمائے کرام مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص کے، اوپر حج کرنا فرض ہو گیا تھا یعنی اس کے پاس اتنا مال و دولت، ہے کہ وہ حج کر سکتا ہے وہ شخص اس رقم کو غریبوں فقیر وں کی مدد میں خرچ کر دیا ہے یا غریبوں کی لڑکیوں کی شادی کرا دیا تو کیا اب اسکے اوپر سے حج کرنے کی فرضیت ختم ہو جائے گی یا نہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں المستفی محمد توصیف عالم

       جواب

جس شخص پر حج فرض تھا اور اس نے حج نہیں کیا اور اس نے مال یعنی روپیہ کو غریبوں فقیروں کی مدد کرنے یا غریب کی لڑکی کی شادی کرانے میں خرچ کر دیا اور اب اسے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ وہ حج کر سکے تو اب بھی اس پر حج کرنا فرض ہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہ ہوگی اسے چاہیے کہ وہ قرض لے کر حج کرے حضور صدر الشریعۃ بد الطریقۃ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں مال موجود تھا اور حج نہ کیا پھر وہ مال تلف ہوگیا ،تو قرض لے کرجائے اگرچہ جانتا ہو کہ یہ قرض ادا نہ ہوگا مگر نیت یہ ہو کہ ﷲ تعالیٰ قدرت دے گا تو ادا کر دوں گا۔ پھر اگر ادانہ ہوسکا اور نیت ادا کی تھی تو امید ہے کہ مولیٰ عزوجل اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے بہار شریعت حصہ ششم صفحہ ٨ مطبوعہ قادری کتاب گھر اور اگر قرض نہ ملے اور نہ ہی کوئی سبیل بنے تو اپنے واثین کو حج کی وصیت کرجائے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری نظامی تنویری عفی عنہ

٢ ربیع الاول ١٤٤٣ ہجری ٩ اکتوبر۔ ٢٠٢١۔ عیسوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے