زنا میں پکڑے جانے پر کیا سزا دی جائے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی زنا کرنے میں پکڑے جانے پر انکو کون سی سزا دیں خاص طور پر اپنے ہندوستان میں المستفی محمد حسین رضا قادری نانپارہ بہرائچ شریف یوپی

       جواب

یقینا زنا کاری حرام ہے جسکی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے چنانچہ
رب ذوالجلال کا ارشاد پاک ہے وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً  وَسَآءَ سَبِيۡلًا حوالہ (پ١٥سورہ بنی اسرائیل آیت٣٢) کہ اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بےشک وہ بے حیائ ہے اور بہت ہی بری راہ (کنزالایمان) سلطنت اسلامیہ میں زنا کی سزا جبکہ چار مرد ثقہ متقی و پرہیزگار سے اسکا ثبوت ہو چکا ہو یہ ہےکہ اگر زانی وزانیہ آزاد اور کنوارے ہوں تو انہیں سو کوڑے لگائے جائیں اور اگر شادی شدہ ہوں تو انکی سزا یہ کہ انہیں رجم کیا جائے گا
جیساکہ قرآن حکیم میں ہے اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِىۡ فَاجۡلِدُوۡا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا مِائَةَ جَلۡدَةٍ‌ ۖ وَّلَا تَاۡخُذۡكُمۡ بِهِمَا رَاۡفَةٌ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ۚ وَلۡيَشۡهَدۡ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ (پ١٨سورہ نور آیت ۲) یعنی جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہئیےکہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو (کنزالایمان)
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ حد حر غیر محصن (آزاد کنوارے)کی ہے کیونکہ حر محصن (آزاد شادی شدہ)کا حکم یہ ہے کہ اسکو رجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحکم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رجم کیا گیا (تفسیر خزائن العرفان)
اور مجدد اعظم سرکار اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں زنا کی سزا آخرت میں عذاب نار ہے اور دنیا میں حد ہے جسکا سلطان اسلام کو اختیار ہے حدیث میں ارشاد ہوا "اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں مفلس،متکبراور بوڑھا زانی اور جھوٹ بولنے والا بادشاہ (فتاوی رضویہ ج٢٣ ص ٣٢٧مکتبہ دعوت اسلامی) ہمارے ملک ہندوستان میں چونکہ سلطنت اسلامیہ نہیں ہے اور نہ ہی یہاں سلطان اسلام ہے لہذا یہاں اسکی سزا یہ ہوگی کہ اسے برادری سے خارج کردیں اور مسلمان اس سے میل جول بند کر ہر طرح کا بائیکاٹ کریں
جیسا کہ امام مذکور ہی کا فرمان عالیشان ہے یہاں نہ اسلامی حکومت ہے نہ حدود جاری ہو سکتے ہیں نہ غیر سلطان کو حد کا اختیار ہے ۔۔۔۔۔۔صرف چارہ کار یہ ہےکہ اسے برادری سے خارج کریں مسلمان اس سے میل جول چھوڑ دیں جب تک توبہ نہ کرے (فتاوی رضویہ ج٢٣ ص ٣٢٥مکتبہ دعوت اسلامی) لہذا سلطنت اسلامیہ میں اسکی سزا سو کوڑے لگاناہے جبکہ غیر شادی شدہ اور آزاد ہو اور رجم کرنا ہے جبکہ آزاد شادی شدہ ہوا مگر ہمارے ہندوستان چونکہ اسلامی حکومت نہیں ہے اس لیئے اسکی سزا یہ ہےکہ اسے برادری سے خارج کردیا جائے اور مسلمان اسکا کلیۃ بائیکاٹ کریں جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقام کشنگنج بہار الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے