یہ کہنا کہ جو شخص جمعہ کے نماز پڑھکر پہلے گھر جائے گا وہ شیطان ہے کیسا؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے ھذا میں کہ: ‌ایک شخص نے کہا کہ جمعہ کی نماز پڑھکر جو پہلے گھر جائے گا وہ شیطان ہے ایسا کہنا کیسا ہے قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفی محمد واجد علی

       جواب

یہ جملہ بالکل فضول لا یعنی من گھڑت ہے اس کا ثبوت کہیں موجود نہیں ہے کہنے والے پر ضروری ہےکہ حوالہ پیش کرے اگر کہنے والا کافی علم نہیں رکھتا اور کسی کامل مفتی کے پاس مدت سے مشق بھی نہیں کیا تو وه ہرگز مسائل بیان نہیں کرسکتاـ اور ایسا شخص شریعت کے مسائل بتانے پر جرات کرتا ہے اور یہ سخت گناہ کبیرہ ہے
حدیث شریف میں ہے کہ اجراکم على الفتيا اجراکم على النار یعنی جو شخص تم میں فتوی پر زیادہ دلیر ہے جہنم پر زیادہ دلير ہے ( کنز العمال ج 10 ص102 )
دوسری حدیث میں ہے کہ من افتى بغير علم لعنة ملائکة السماءو الارض " اھ یعنی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا آسمان و زمین کی فرشتوں نے اس پر لعنت کی حوالہ ( کنز العمال ج 10 ص 193 ) ایسے شخص سے نہ فتوی پوچھنا جائز اور نہ اس پر عمل جائزـ ایسا ہی فتاوى رضویہ ج 9 ص 231 : نصف اول پر ہے لہذا اس پر ضروری ہےکہ وہ اپنے اس قول سے رجوع کرے اور توبہ و استغفار کرے اور کہنے والے سے معافی مانگے اوراگر ایسا نہیں کرتا ہے تو مسلمانوں پر ضرور ہے کہ اس کا مکمل بائیکاٹ کردیں واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ: جلال الدین احمد امجدی رضوی نعیمی ارشدی

خادم جامعہ گلشن فاطمہ للبنات پیپل گاؤں و بانی و مہتمم تاج الشریعہ لائبریری پیپل گاؤں نائیگاؤں ضلع ناندیڑ مہاراشٹر الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے