11.29.2021

مزار شریف کے غلے کی رقم مسجد میں خرچ کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ مزار شریف کے گلے سے پیسہ نکال کر مسجد کی مرمت یا عید گاہ کو باؤنڈری کرنے کے لئے خرچ کرنا از روئے شرع درست یا نہیں ؟ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں المستفی محمد صدام حسین رضوی نظامی

       جواب

مزار شریف کے گلے سے چندہ نکال کر مسجد کی مرمت یا عیدگاہ وغیرہا کی تعمیر جائز نہیں تاوقتیکہ چندہ دینے والے کی اجازت نہ لے لے
حضور اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں چندہ جس کام کیلئے کیا گیاہو جب اسکے بعد بچے تو وہ انہیں کی ملک ہے جنہوں نے چندہ دیا ہے ان کو حصہ رصد واپس دیا جائے یا جس کام میں وہ کہیں صرف کیا جائے اور اگر دینے والوں کا پتہ نہ چل سکے کہ انکی کوئی فہرست نہ بنائی تھی نہ یاد ہے کہ کس کس نے دیا اور کتنا کتنا دیا تو وہ مثل لقطہ ہے اسے مسجد میں صرف کرسکتے ہیں (فتاویٰ رضویہ جلد 16 صفحہ 248، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نیز اسی میں ہے چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو،بے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے،ہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کےلئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیں،مثلًا تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیں،غیر کام مثلًا تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریں،اور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں
درمختار میں ہے ان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ "اھ (درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱) اگر چندہ سے کچھ بچ جائے تو دینے والا اگر معلوم ہو تو اسے واپس کیا جائےگا ورنہ اس جیسے فقیر کے کفن پر صرف کیا جائے یا صدقہ کردیاجائے (فتاویٰ رضویہ جلد 16 صفحہ 206 رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ

۲۱ ربیع الثانی ۳٤٤١؁ ھجری

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only