کافر کے نابالغ بچے کی جنازہ پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کافر کا بچہ بچپن میں انتقال کر جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا پڑھانا کیسا ہے حالانکہ حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اس جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی المستفی محمد تبریز عالم دہلوی

       جواب

یقینا ہر بچہ فطرت اسلامیہ ہی پر پیدا ہوتاہے مگر اسکے والدین اسے یہودی،نصرانی،مجوسی یا جس بھی مذہب وہ ماننے والے ہوتے ہیں اسے وہی بنا دیتے ہیں جیساکہ مشکوٰۃ شریف جلد اول صفحہ ۲۱پر اس مضمون کی حدیث موجود ہے اسی لئے جب وہی بچہ ہوش وحواس سے پہلے ہی اگر فوت ہو جائے تو اس کے ساتھ بھی کافروں کا سا ہی عمل ہوگا کہ اسکی بھی نماز جنازہ نہ پڑھی جائیگی کیونکہ وہ اگر زندہ ہوتے تو کافروں کا سا ہی عمل کرتے چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ ام المومنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے بچے کہاں جائیں گے تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے پھر پوچھا یا رسول اللہ بنا عمل کے ارشاد فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے پھر دریافت فرمایا اور کفار کے بچے ؟ارشاد فرمایا وہ بھی اپنے باپ دادوں سے پھر پوچھا بنا عمل کے ارشاد فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت قلت یا رسول اللہ ذراری المؤمنین قال من آبائھم فقلت یا رسول اللہ بلا عمل قال اللہ اعلم بما کانوا عاملین قلت فذراری المشرکین قال من آبائھم قلت بلا عمل قال اللہ اعلم بما کانوا عاملین رواہ ابو داؤد (مشکوٰۃ المصابیح جلد ۱ص۲۳) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار ومشرکین کے بچوں کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے گا جو انکے باپ دادوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کیونکہ احکام دنیا میں ایمان فطری کا اعتبار نہیں ہے بلکہ ایمان شرعی کا اعتبار ہے جوعزم و ارادہ سے اختیار کیا جاتا ہے چنانچہ
مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں ہے لا عبرۃ بالایمان الفطری فی احکام الدنیا وانما یعتبر الایمان الشرعی المکتسب بالارادۃ الا تری انہ یقول فابواہ یھودانہ فی حکم الدنیا فھو مع وجود الایمان الفطری فیہ محکوم لہ بحکم ابو یہ الکافرین (ج١ص٢٦٣) البتہ اگر اس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو پھر اسکی نماز جنازہ پڑھی جائیگی کہ اب یہ مسلمان قرار دیا جائیگا کیونکہ بچہ دینی اعتبار سے خیر الابوین کے تابع ہوتا ہے
جیساکہ خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں او اسلم احد ابویہ یجعل مسلما تبعا سواء کان الصغیر عاقلا او لم یکن،لان الولد یتبع خیر الابوین دینا (شامی ج ۳ص١٥٥)
اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں چھوٹے بچے کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں یا ایک تو وہ مسلمان ہے اسکی نماز پڑھی جائے اور دونوں کافر ہیں تو نہیں بہار شریعت ج ١ح٤ص٨٢٦) لہذا چونکہ احکام دنیا میں ایمان فطری معتبر نہیں ہے اور حدیث پاک میں فطری ولادت ہی کا ذکر ہے اس لئے اسکی نماز جنازہ نہ پڑھی جائیگی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقام کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے