اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

کیا قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ با وضو ہونے کے باوجود کوئی قہقہہ لگا ے تو کیا اس کا وضو مکروہ ہو جاے گا المستفی نایاب رضا کانپور

       جواب

نماز کے علاؤہ میں قہقہہ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور نہ مکروہ ہوتا ہے۔۔یہ قہقہے سے وضو جو ٹوٹتا ہے صرف نماز ہی کے ساتھ خاص ہے۔وہ بھی جاگے ہو تو
فتاوی رضوی شریف میں ہے نماز جنازہ کے سوا اور نماز میں بالغ آدمی جاگتے میں ایسا ہنسے کہ اور وں تک ہنسی کی آواز پہنچے تو وضو بھی جاتا رہے گا ج۱ ص۵۷۹ باوضو شخص قہقہ لگائے تو مستحب ہے کہ پھر وضو کرلے۔جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: قہقہہ لگانے، لغو اشعار پڑھنے اور اونٹ کا گوشت کھانے، کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل مس ہو جانے سے اور باوُضو شخص کے نماز پڑھنے کے لیے ان سب صورتوں میں وُضو مستحب ہے (ج۱ ح۲ ص۳۰۲ مکتبہ المدینہ) اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز ِجنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وُضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔(ایضا لک) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

۲۳ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ہجری ۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز پیر

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست