مشکوک پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مکروہ یا مشکوک پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لیا اور نماز کے بعد اسکا علم ہوا کہ جس پانی سے وضو کیا تھا وہ مکروہ یا مشکوک تھا تو نماز کا کیا حکم ہوگا نماز ہو گئی یا اعادہ کرنا ہوگا راہنمائی فرمائیں المستفی حافظ توحید عالم اشرفی

       جواب

مکروہ پانی سے وضو و غسل مکروہ ہے لہذا نماز تو ہوگٸ مگر کراہت کے ساتھ ایسی صورت میں جب علم ہوجاۓ تودوبارہ صحیح پانی سے وضو کرلے نماز کا اعادہ کرلینا بہتر ہے
فتاویٰ ھندیہ میں ہے الْمَاءُ الْمَكْرُوهُ إذَا تَوَضَّأَ بِهِ مَعَ وُجُودِ الْمَاءِ الْمُطْلَقِ كَانَ مَكْرُوهًا وَعِنْدَ عَدَمِهِ لَا يَكُونُ مَكْرُوهًا، كَذَا فِي الِاخْتِيَارِ شَرْحِ الْمُخْتَار المجلدالاول ، کتاب الطہارة ، باب المیاہ ، ص ٢٧ بیروت لبنان اور اگر ماء مشکوک سے وضوٕ کیا نماز پڑھلی بعد میں علم ہوا تو دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری کیوں کہ ماء مشکوک سے وضو نہیں ہوسکتا ہے
فتاویٰ ھندیہ میں ہے وَلَوْ وَقَعَ سُؤْرُ الْحِمَارِ فِي الْمَاءِ يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِهِ مَا لَمْ يَغْلِبْ عَلَيْهِ كَالْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ المرجع السابق واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے