کیا عورت اپنا بدن چھپا کر غیر مرد کے سامنے آ سکتی ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ عورت اگر اپنا سارا بدن اور سر سے پاؤں تک چھپاۓ ہوئے غیر محرم مرد کے سامنے آ سکتی ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں مہربانی۔۔۔ ہوگی المستفی ارشد رضا قادری بریلی شریف

       جواب

عورت کو اپنے پورے بدن کا چھپانا فرض ہے سواء چہرا اور ہاتھ کے ہتھیلی کے اور اگر چہرہ اور ہاتھ کے ہتھیلی کے کھولے رہنے سے فتنے کا اندیشہ ہو تو اس کوبھی چھپاکر رکھے
فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اجنبیہ عورت کے چہرہ کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے ،جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زمانہ فتنہ کا ہے اس زمانے میں ویسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانہ میں تھے، لہٰذا اس زمانہ میں اس کو دیکھنے کی ممانعت کی جائے گی مگر گواہ و قاضی کے لیے کہ بوجہ ضرورت ان کے لیے نظر کرنا جائز ہے لھذا معلوم ہوا کہ عورت کا باپردہ ہو کر نا محرم کے سامنے ضرورت کے تحت آنا جائز ہے اور عورت کا بلا ضرورت گھرسے باہر نکلنا جائز نہیں حدیث شریف میں ہے ترمذی نے عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ عورت عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے، تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے بہار شریعت جلد سوم حصہ شانزدہم دیکھنے اور چھونے کا بیان واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد عمران قادری نظامی تنویری عفی عنہ

٧ جمادی الآخر بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے