اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

حلال جانور کا خون کپڑے میں لگ جائے تو نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ کے بارے میں حلال جانور کا خون کپڑے میں لگ جائے تو نماز پڑھنا کیسا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی المستفی حافظ محمد ارباز رضا

       جواب

بہتاخون گرچہ حلال جانور کا ہو ناپاک ہے اور یہ نجاست غلیظہ ہے! کپڑے پر لگا اور ایک درھم کی مقدار سے زاٸد ہے تو پاک کرنافرض ہے بغیر پاک کیۓ نماز ہوگی ہی نہیں! اور اگر درھم کےبرابر ہے تو پاک کرناواجب ہے بغیر پاک کیۓ نمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی! اور درھم کی مقدار سےکم ہے توپاک کرنا سنت ہے بغیرپاک کیۓ نماز ہوجاۓگی مگرخلاف سنت ہوگی
صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے ،تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصدا پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیت استخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے اور قصدا پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلاف سنت ہوئی اور اس کا اعادہ بہتر ہے بہارشریعت ، حصہ ٢ ، ص ٣٨٩ {مکتبہ مدینہ دھلی} واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول و امام جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست