5.21.2022

کسی مسلمان کو نامرد دوگلہ منافق اس طرح کے الفاظ کہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس سوال مے کہ مسلمانوں کو دوگلے نامرد منافق ہیں اس طرح سے کمینٹ کرنا یا بولنا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہو اس طرح کے الفاظ بولنا قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں جزاک اللہ المستفی حافظ منیر احمد گجرات سے

       جواب

بلا عذر کے کسی بھی مسلمان کو دوگلے، نامرد یا منافق کہنا ناجائز و حرام ہے۔ یاد رکھے اسلام میں ہر فرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اسے کوئی بھی شخص اپنے کسی بھی قول و فعل کے ذریعے تکلیف نہیں دے سکتا ہے۔ دوگلے ، نامرد ، منافق کہنا گویا اس کو یذا دینا ہوا ۔ اگر کسی نے ایسا کہا ہے تو اسے فورا ان سے معافی مانگی جائے اور اپنے اس بد فعل سے توبہ کرے ۔ کہ آئندہ ایسا کسی سے نہیں کہوں گا
اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا وہ لوگ جو ایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں بے شک انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے ذمے لے لیا
سیّدِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں ’مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَ مَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی الله جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا
امامِ اَجل رافعی نے سیّدنا علی کَرَّمَ اللہ وَجْہَہٗ سے روایت کی، مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا اَوْضَرَّہٗ اَوْمَاکَرَہٗ یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے

(حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج ۲۴ ص ۴۲۵ تا ۴۲۶ رضا فائونڈیشن لاہور)
مزید فرماتے ہیں کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلا حاجت ِشرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو ،اسے ایذا پہنچے، شرعاً ناجائز و حرام ہے اگر چہ بات فی نفسہٖ سچی ہو
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :من دعا رجلا بغیر اسمہ لعنته الملائکة فی التیسیر ای بلقب یکرھا لا بنحو یا عبدﷲ جو شخص کسی کو اس کانام بدل کر پکارے فرشتے اس پر لعنت کریں تیسیر میں ہے یعنی کسی بد لقب سے جو اسے برا لگے نہ کہ اے بندہ خدا وغیرہ سے بحرالرائق ودرمختار میں ہے فی القنیة قال لیھودی او مجوسی یا کافر یاثم ان شق علیه ومقتضاہ انه یعزر لارتکابه الاثم (فتاوی رضویہ، رسالہ: اراء ۃ الادب لفاضل النسب، ج۲۳ ص۲۰۴ رضا فائونڈیشن لاہور واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

نیپال

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

جـمـلہ وحـقـوق اسـلامـی مـعـلـوت کـے لـئـے مـحـفـوظ ہے اسـلامـی مـعلـومـات گــروپ 2023

Designed By MO SHAFEEQ RAZA

Whatsapp Button works on Mobile Device only