5.29.2022

وکیل خود نکاح پڑھائے دوسرے سے نہ پڑھوائے تو

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دولھن سے اجازت لینے کے لئے دو گواہ اور وکیل گئے اور اجازت لے کر آئے اور امام صاحب سے کہا کہ آپ دولھا سے قبول کرا دیں ۔امام صاحب نے دو گواہ اور وکیل کی موجودگی میں نکاح پڑھایا ۔کیا یہ نکاح درست ہے جواب عنایت فرمائے،فقط والسلام المستفی محمد ضمیر الدین اشرفی پرسونوی سیتامڑھی بہار

       جواب

اصل و ضابطہ نکاح میں یہی ہے کہ لڑکی اگر اپنے نکاح کا وکیل کسی شخص کو کسی شخص کے ساتھ دین مہر معین کر کے بنا دیا ہو تو یہ وکیل خود نکاح پڑھائے یعنی ایجاب و قبول کرائے۔ اس وکیل بالنکاح کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بجائے کسی دوسرے کو اپنی طرف سے بغیر اجازتِ مؤکل و مؤکلہ وکیل بنائے۔ فقہ ِحنفی میں ظاہر الروایہ اسی کو قرار دیا گیا ہے در مختار جلد رابع ص ۴۱۰ میں ہے الوکیل لا یوکل الا باذن آمرہ الخ وکیل کو حکم دینے والی کی اجازت کے بغیر دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار نہیں
ردالمحتار میں ہے الوکیل فی النکاح لیس لہ التوکیل، وبہ صرح فی الخلاصۃ والبزازیۃ والبحر من کتاب النکاح وکیل نکاح کو، دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار نہیں
فتاویٰ خلاصہ بزازیہ اور بحرالرائق کتاب النکاح میں ایسی ہی تصریح کی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں وکیل بالنکاح کو شرعاً اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تک کہ ماذون مطلق یا صراحتاً دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے نکاح پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہو گا اگرچہ عقد اس(وکیل) کے سامنے ہی واقع ہو
حضور صدر الشریعہ و بدرالطریقہ علیہ الرحمہ یہ جو تمام ہندوستان میں عام طور پر رواج پڑا ہوا ہے کہ عورت سے ایک شخص اذن لے کر آتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں ، وہ نکاح پڑھانے والے سے کہہ دیتا ہے میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھا دیجیے۔ یہ طریقہ محض غلط ہے۔ وکیل کو یہ اختیارنہیں کہ اُس کام کے لیے دوسرے کو وکیل بنا دے، اگر ایسا کیا تو نکاح فضولی ہوا اجازت پر موقوف ہے، اجازت سے پہلے مرد و عورت ہر ایک کو توڑ دینے کا اختیار حاصل ہے بلکہ یوں چاہیے کہ جو پڑھائے وہ عورت یا اُس کے ولی کا وکیل بنے خواہ یہ خود اُس کے پاس جا کر وکالت حاصل کرے یا دوسرا اس کی وکالت کے لیے اذن لائے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کو تُو نے وکیل کیا کہ وہ تیرا نکاح فلاں بن فلاں بن فلاں سے کر دے۔ عورت کہے ہاں (بہار شریعت حصہ ہفتم ص ۱۳،۱۴)
حضرت علامہ مفتی حلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے مگر جب کہ اس علاقہ میں یہ بات مشہور و معروف ہو کہ وکیل خود نہ پڑھائے گا بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو اذن کے ضمن میں دوسرے کو بھی اذن دینے کا عرفاً اذن مل گیا فان المعروف کالمشروط کما ھو من القواعد بالمقررۃ الفقھیۃ اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہو تو بیشک اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعیم ا ھ اس تقدیر پر نکاح فضولی نہ ہوا بلکہ نافذ اور لازم واقع ہوا۔ مگر یہ اسی صورت میں ہو گا جبکہ اس طریقۂ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اور جانتی ہوں کہ وکیل خود نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا والا لم یکن معروفًا عند ھن فلایجعل کالمشروط فی حقھن یہ سب اس صورت میں ہے کہ وکیل اصلی نے نکاح کے بعد کوئی ایسا کلمہ نہ کہا جس سے اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کر دینے سے جائز ہو جائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل نہ ہو فی الاشباہ: الوکیل اذا وکل بغیر اذن وتعمیم واجازما فعلہ وکیلہ نفذ الاالطلاق والعتاق ا ھ

(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ٥٥٠ ،۔ شبیر برادرز لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد منظر رضا نوری اکرمی نعیمی غفرلہ القوی

بہار انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only