اہل ہنود کے چھٹ پوجا میں مسمان کو شرکت کرنا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ اہل ہنود کے چھٹ پوجا میں مسمان کو شرکت کرنا کیسا ہے ? جیسا کہ بعض مسلمان ہندوٶں کی ایک تہوار جسے چھٹ پوجا کہا جاتا ہے اس میں چھٹی مَیَّا کی منت مانگ کر پوجا کروانے کے لۓ کچھ پوجا کا سامان بھیجتے ہیں , تو ایسے مسلمان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ? قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں مہربانی ہوگی المستفی محمد ارشاد عالم بہار

       جواب

چھٹ پوجا میں شرکت کرنا شرک ہے، اور شرک کفر کی سب سے بدترین قسم ہے
ارشاد باری تعالی وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۘ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ (پ۲۰ ، القصص:۸۸
ترجمۂ کنز الایمان اور اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں معلوم ہوا کہ غیرِ خدا کو خدا سمجھ کر پکارنا یا پوجنے کی منت ماننا یا پوجا کے لیے سامان بھیجوانا شرک ہے کیونکہ یہ غیر خدا کی ایک قسم کی عبادت ہے
بہار شریعت میں ہے شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے

( حصہ اول صفحہ ۱۸۳ )
لہذا معلوم ہوا اس طرح کی منت مان کر پھر پوجا کے لیے اس میں سامان بھیجوانا گویا پوجا کرنے راضی ہوناہے اور یہ کفر اور شرک ہے اگر کسی مسلمان نے چھٹ پوجا میں شرکت کی یا اس میں منت مانی اور سامان بھیجوایا تو اس پر توبہ تجدید ایمان لازم ہے بیوی رکھتا ہے تو تجدید نکاح بھی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۷ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری ۳ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے