12.25.2022

باپ کی زندگی میں بیٹی کا انتقال ہو گیا تو حصہ ہوگا یا نہیں؟

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسٸلہ کے بارے میں کہ حافظ عتیق الرحمن صاحب کے پانچ لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں اور ان کی حیات میں ایک لڑکی شادی کے بعد انتقال کرگٸ بعدہ حافظ عتیق الرحمن بھی انتقال کرگۓ اب حافظ صاحب کی زمین و جاٸیداد میں سب کو کتنا کتنا حصہ ملے گا ؟ المستفی محمد ضیاءالدین خان قادری

       جواب

بعد تقدیم ما تقدم علی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین حافظ صاحب کا کل ترکہ ١٢ حصوں میں منقسم ہوگا جن میں سے دو دو حصے فی لڑکا اور ایک ایک حصہ فی لڑکی ملے گا اور جو بیٹی حافظ صاحب کی حیات میں انتقال کر گئی اس کا شرعا ترکہ میں حصہ نہیں کہ ترکہ مورث کی موت کے بعد بچا ہوا مال ہوتا ہے اور اس کے وارث وہی ہوتے جو اس کی وفات کے بعد زندہ ہوں
 جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں تحریر ہے 
ﻭﻟﻬﺎ اﻟﻨﺼﻒ ﺇﺫا اﻧﻔﺮﺩﺕ ﻭﻟﻠﺒﻨﺘﻴﻦ ﻓﺼﺎﻋﺪا اﻟﺜﻠﺜﺎﻥ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻻﺧﺘﻴﺎﺭ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻭﺇﺫا اﺧﺘﻠﻂ اﻟﺒﻨﻮﻥ ﻭاﻟﺒﻨﺎﺕ ﻋﺼﺐ اﻟﺒﻨﻮﻥ اﻟﺒﻨﺎﺕ ﻓﻴﻜﻮﻥ للاﺑﻦ ﻣﺜﻞ ﺣﻆ اﻷﻧﺜﻴﻴﻦ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ

(ج٦،ص٤٤٨)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد المصباحی القادری

مقام قنوج یو پی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only