1.15.2023

کیا کسی ولی یا نبی نے طلاق دی ہے؟ نیز بیوی کو مارنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ مفتیان کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے وہ بار بار طلاق کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ شوہر انکار کرتا ہے کیوں کہ وہ طلاق دینے کو گناہ سمجھتا ہے تو کیا طلاق دینا گناہ ہے؟ کیا طلاق دی جائے یا ایسے ہی نبھایا جائے؟ ٢۔ کسی ولی یا نبی نے طلاق دی ہے؟ اگر عورت مرد کی بد اخلاقی اور اسکے ظلم و ستم سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہو اور پھر طلاق کا مطالبہ کرے تو اس عورت کے لیے اب کیا حکم ہو گا اور اس ظالم وجابر مرد کیلئے احادیث میں کیا وعید آئی ہے؟ محمد جنید عطاری متعلم دورۃ الحدیث شریف جامعۃ المدینہ نیپال۔ المستفی محمد دانش

       جواب

عورت کو سمجھایا جاے اگر سمجھ جاے تو بہتر ہے اور اگر کسی طرح نہیں سمجھتی اور نباہ بھی مشکل ہے تو شوہر طلاق دے سکتا ہے گناہ گار نہ ہوگا کہ طلاق دینا جائز ہے اور فعل جائز پر گناہ نہیں البتہ بلا وجہ شرعی ممنوع ہے اور اگر وجہ شرعی ہو مثلا اسکو یا دوسروں کو ایذا دیتی ہو یا نماز نہ پڑھتی ہو تو ممنوع بھی نہیں
درمختار میں ہے ﻭﺇﻳﻘﺎﻋﻪ ﻣﺒﺎﺡ ﻋﻨﺪ اﻟﻌﺎﻣﺔ ﻹﻃﻼﻕ اﻵﻳﺎﺕ ﺃﻛﻤﻞ ﻭﻗﻴﻞ ﻗﺎﺋﻠﻪ اﻟﻜﻤﺎﻝ اﻷﺻﺢ ﺣﻈﺮﻩ ﺃﻱ ﻣﻨﻌﻪ ﺇﻻ ﻟﺤﺎﺟﺔ ﻛﺮﻳﺒﺔ ﻭﻛﺒﺮ ﻭاﻟﻤﺬﻫﺐ اﻷﻭﻝ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﻭ ﻗﻮﻟﻬﻢ اﻷﺻﻞ ﻓﻴﻪ اﻟﺤﻈﺮ ﻣﻌﻨﺎﻩ ﺃﻥ اﻟﺸﺎﺭﻉ ﺗﺮﻙ ﻫﺬا اﻷﺻﻞ ﻓﺄﺑﺎﺣﻪ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻟﻮ ﻣﺆﺫﻳﺔ ﺃﻭ ﺗﺎﺭﻛﺔ ﺻﻼﺓ ﻏﺎﻳﺔ ﻭﻣﻔﺎﺩﻩ ﺃﻥ ﻻ ﺇﺛﻢ ﺑﻤﻌﺎﺷﺮﺓ ﻣﻦ ﻻ ﺗﺼﻠﻲ ﻭﻳﺠﺐ ﻟﻮ ﻓﺎﺕ اﻹﻣﺴﺎﻙ ﺑﺎﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻭﻳﺤﺮﻡ ﻟﻮ ﺑﺪﻋﻴﺎ
(رد المحتار،ج٤،ص٤١٤ تا ٤١٧)
بہار شریعت میں درمختار سے ہے طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی ممنوع ہے اور وجہ شرعی ہو تو مباح بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کویااوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے۔ اور بعض صورتوں میں طلاق دینا واجب ہے مثلا شوہر نامرد یا ہیجڑا ہے یا اس پر کسی نے جادو یا عمل کردیا ہے کہ جماع کرنے پر قادر نہیں اور اس کے ازالہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ان صورتوں میں طلاق نہ دینا سخت تکلیف پہنچانا ہے"ملتقطا

(ح٨، ص١١٠)
عورت اگر بغیر کسی حرج کے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو ضرور گناہ گار ہوگی کہ ایسی صورت میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے
امام احمد و ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﺃﻳﻤﺎ اﻣﺮﺃﺓ ﺳﺄﻟﺖ ﺯﻭﺟﻬﺎ ﻃﻼﻗﺎ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺑﺄﺱ ﻓﺤﺮاﻡ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺭاﺋﺤﺔ اﻟﺠﻨﺔ
(سنن الترمذی، ج٢، ص٤٨٤،ش) البتہ اگر شوہر ظلم و ستم مار پیٹ گالی گلوچ کرتا ہے تو ایسی صورت میں عورت کیلئے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنا خواہ بعوض(خلع) ہو یا بلا عوض جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں
ج
کما قال اللہ تعالی فی کتابہ الکریم ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتموھن شیئا الا ان یخافا الا یقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ (سورۃالبقرۃ،الآیۃ۲۲۸)
اس کے تحت تفسیرات احمدیہ میں ہے عدم اقامۃ حدوداللہ وھو عدم الموافقۃ بینھما بان یحدث من المرأۃ النشوز وسوء الخلق وترک الادب للزوج ومن الزوج الضرب والشتم بغیر حق وغیر ذلک
(ص۸۹)۔ اسی طرح شوہر نان و نفقہ سے عاجز ہو یا عاجز نہ ہو مگر نان و نفقہ ادا نہ کرتا ہو تو بیوی مطالبہ طلاق کرسکتی ہے بلکہ دارالافتاء میں مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور قاضی بعد کاروائی ثابت شدہ کے مطابق حکم صادر فرماےگا
(مجلس شرعی کے فیصلے، ص۲۳۲تا۲۳۷)
اسی طرح حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا کو طلاق ہوئی سنن کبری للبیھقی وغیرہ میں ہے ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ "ﻃﻠﻖ ﺳﻮﺩﺓ ﻓﻠﻤﺎ ﺧﺮﺝ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﻼﺓ ﺃﻣﺴﻜﺖ ﺑﺜﻮﺑﻪ ﻓﻘﺎﻟﺖ: ﻣﺎﻟﻲ ﻓﻲ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻣﻦ ﺣﺎﺟﺔ ﻭﻟﻜﻨﻲ ﺃﺭﻳﺪ ﺃﻥ ﺃﺣﺸﺮ ﻓﻲ ﺃﺯﻭاﺟﻚ ﻗﺎﻝ: ﻓﺮﺟﻌﻬﺎ ﻭﺟﻌﻞ ﻳﻮﻣﻬﺎ ﻟﻌﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﺎ ﻭﻛﺎﻥ ﻳﻘﺴﻢ ﻟﻬﺎ ﺑﻴﻮﻣﻬﺎ ﻭﻳﻮﻡ ﺳﻮﺩﺓ (ج٧،ص١١٨)
اسی طرح فاطمہ بنت شریح مطلقہ ہیں (تاریخ الامم والملوک) حضرت حسن بن علی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھم وغیرہما صحابہ و اولیاء رضی اللہ تعالٰی عنھم نے اپنی بیویوں کو طلاق دی کماجاء فی کتب الاحادیث والسیر
السنن اللکبری للبیھقی میں ہے عن ﺣﻤﺰﺓ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻲ اﻣﺮﺃﺓ ﻛﻨﺖ ﺃﺣﺒﻬﺎ ﻭﻛﺎﻥ ﺃﺑﻲ ﻳﻜﺮﻫﻬﺎ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻲ: ﻃﻠﻘﻬﺎ ﻓﺄﺑﻴﺖ ﻓﺄﺗﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺬﻛﺮ ﺫﻟﻚ ﻟﻪ ﻓﻘﺎﻝ: ﻃﻠﻘﻬﺎ ﻓﻄﻠﻘﺘﻬﺎ (ج٧،ص٧٢٧،ش) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد المصباحی القادری

خادم التدریس جامعہ مظہر العلوم گرسہاے گنج قنوج یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only