2.10.2023

سید یا کسی سُنی عالم کو کفار سے بدتر کہنا کیسا

(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتان شرع مسئلہ ھذا میں کہ زید اپنے آپ سنی مسلمان کہتا ہے اسکے پڑوس میں صحیح العقیدہ سنی سادات کا گھرانہ ہے، جن میں سے اہل علم پاس کی جامع مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتے ہیں. مسجد کی پانی کی پائپ  زید کی زمین  سے آتی تھی وہ زید نے اکھاڑ لیا اور اب اسی پائپ سے اپنی سبزی میں پانی لگاتا ہے. اس شخص سے جب گاوں کے معززین نے تمام معاملات کے بارے پوچھا تو سب کے سامنے اس نے کہا کے ان سیدوں سے ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی اچھے ہیں اور یہ ان سے بد تر ہیں ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے. قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

سائل سید شفقت بخاری جموں کشمیر

الجواب  زید پر فرض ہے کہ فوراً توبہ کرے اور سید سے اعلانیہ معافی مانگے جس طرح مجمع میں اس نے گستاخی کی تھی اور تجدیدِ ایمان وتجدید نکاح کرے کہ صحیح العقیدہ مسلمان کو ہندو سکھ وغیرہ کہنا یا کافروں اور بدمذہبوں سے بدتر کہنا عالم دین کے علم کے سبب ان کا استہزاء اور استخفاف، نسب کے بناء پر سید کی توہین سب کفر ہے. اگر زید توبہ نہ کرے تو مسلمان بائیکاٹ شروع کر دیں. اس سے سلام کلام بند کردیں، بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو نہ جائیں اور نہ ہی مرنے پر اس کے کفن ودفن یا جنازہ میں شرکت کریں. اگر طنزا یا گالی کے طور پر کہا ہوتا احتیاطا تجدید ایمان وتجدید نکاح چاہیے تھا لیکن مسجد سے پائپ اکھاڑنا اس بات پر دال ہے کہ اس نے ایسا نہ طنزا کہا نہ گالی کے طور پر

حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا من لم يعرف حق عترتي، والأنصار، والعرب فهو لأحد ثلاث: إما منافقا، وإما لزنية، وإما لغير، وإما لغير أي حملته أمه على غير  طهور (شعب الإیمان، م: ١٥٠٠؛ ترتیب الامالی الخمیسیة للشجری، م: ٧٦٤؛ کنز العمال، م: ٣٤١٩٩؛ فيه ضعف) 

جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔ یا تو منافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔

مجمع الانہر میں ہے والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر. ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر (مجمع الأنهر، ٦٩٥/١)

علماء اور سادات کی توہین کفر ہے. جس نے بے ادبی کرتے ہوئے عالم کو عویلم یا علوی کو عُلیوی کہا تو وہ کافر ہوگیا.

الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (الأشباه والنظائر لابن نجیم، کتاب السیر، ص: ١٧٠)

علم دین اور عالم دین کا استہزاء کفر ہے. (یعنی علم دین کے سبب استہزاء کرنا؛ کیونکہ یہ علم کی توہین ہے) 

قال في البزازية: الاستخفاف بالعلماء كفر، لكونه استخفافا بالعلم. (غمز عیون البصائر، ٢٠٢/٢)

بزاریہ میں کہا گیا: علماء کی توہین کفر ہے اس لئے کہ یہ علم کی توہین ہے

امام اہل سنت رحمۃ الله تعالى علیہ فرماتے ہیں عالم دین سنی صحیح العقیدہ داعی الی الله کی توہین کفر ہے (فتاوی رضویہ، ٦١٢/١٤) 

شارح بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے یہ کہا کہ مولویوں سے اچھے پنڈت ہیں اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے کہ فورا بلا تاخیر اس کلمہ خبیثہ سے توبہ کرے. پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو تجدید نکاح کرے کسی کافر کو مسلمان سے اچھا کہنا کفر ہے اور قرآن مجید کا انکار ہے. ارشاد ہے

وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ (سورۃ البقرۃ، ٢٢١)

اور بے شک مسلمان غلام، مشرک سے اچھا ہے. (فتاوی شارح بخاری ٥٨٧/٢)

کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی گونڈی، ممبئی ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only