2.01.2023

یہ جملہ کہنا کہ الله بچانے نہیں آئے گا تو کیا حکم ہے

(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماء دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ زید نے کہا کہ اگر ہم لوگوں کو کچھ ہو جائے تو اہل حدیث ہی بچانے آئے گا الله بچانے نہیں آئے گا یہ اس لئے کہا کہ زید کے اطراف ہندو دھرم کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور ایک کلو میٹر دور انگریزی اہل حدیثوں کی آبادی ہے. زید کے گاؤں میں اگر ہندو دھرم کے لوگ مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں تو وہی لوگ زید کے گاؤں والوں کا ساتھ دیتے ہیں اس لئے زید نے مذکورہ بالا جملہ نکال دیا. اب زید پر شریعت کے جانب سے کیا حکم نافذ ہوگا

(الجواب) زید کا یہ کہنا اہلحدیث ہی بچانے آئے گا خدا بچانے نہیں آئے گا“ یہ صریح کفر ہے. جس طرح یہ کہنا کہ مجھے میری ماں نے پیدا کیا ہے اللهﷻ نے نہیں (نعوذ بالله) زید اسلام سے نکل گیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی، جیسے مجمع میں اس نے وہ ناپاک ملعون لفظ کہے اسے حکم ہے کہ ویسے ہی مجمع میں توبہ کرے اور اسلام لائے اگر کلمہ نہ پڑھے تو مسلمانوں کو اس سے سلام و کلام، اس کے پاس بیٹھنا، اس کی شادی غمی میں شریک ہونا حرام بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا اسے غسل وکفن دینا جنازہ پڑھنا حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا، مرنے کے بعد اسے کچھ ثواب پہنچانا حرام، بلکہ اس کے کفر پر مطلع ہوکر جو کوئی اس کے ساتھ مسلمانوں کا ساکوئی معاملہ کرے گا اور اسے مسلمان جانے گا بلکہ اس کے کفرمیں شک کرے گا وہ خود کافر ہوجائے گا. کوئی شک نہیں جو اللهﷻ کی توہین کو ہلکا سمجھے کافر ہے.

اولا: عبارت سے ظاہر ہے زید کو اللهﷻ کی مدد سے زیادہ پلید خبیثوں کی مدد پر اعتماد ہے. یہ شرک جلی ہے. اگر کسی نے کہا: دوا پر بھروسہ رکھو. دعا کا بھروسہ نہیں قبول ہو یا نہ ہو. کفر ہے. 

ثانیا: ایک ہیچ مخلوق کی یہاں مقابلہ آرائی ہے اس ذات سے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے. یہ کفر ہے. ہر مدد اللهﷻ ہی کی طرف سے ہے چاہے نجدیوں سے کروائے یا اہل سنت وجماعت سے.

آپ یہ خیال نہ کریں کہ یہ کفر اس لئے نہیں ہے کہ اللهﷻ خود آ نہیں سکتا اور اہل خبیثوں کے پیر ہوتے ہیں اس لئے ان میں سے کوئی مدد پر آ سکتا ہے. یہ بھی کفر ہے یعنی اگر مذکور عبارت میں اللهﷻ کی مدد کے بجائے اللهﷻ کی ذات کے آنے کا انکار کیا گیا ہو پھر بھی یہی (کفر کا) حکم ہے کہ اس طرح خالق ومخلوق میں موازنہ، خالق کی تنقیص ہے. البتہ اللهﷻ کے نزول کا عقیدہ بھی باطل ہے. 

مختصرا ایسی بات کہی جس میں اللهﷻ ورسول ﷺ کو کم قدر والا بتایا البتہ وہ بات محال ہو یا ممکن. دونوں صورتوں میں کفر ہے. اور سچ بھی کبھی کفر ہوتا ہے. جیسے ابلیس مردود نے کہا تھا. 

حق بات ہے کہ اللهﷻ کی بیوی کا عقیدہ رکھنا کفر ہے. اور نکاح اس لائق ہی نہیں کہ اللهﷻ اس سے متصف ہو سکے. 

اب اگر زید یہ کہے کہ فلاں گاؤں کا اہلحدیث سات نکاح کر چکا اور اللهﷻ ایک بھی نہ کر سکتا. اس کا خون حلال ہوگیا. اس مردود کو اس لائق ہی نہ رکھے کہ دوسری سانس لے سکے. جو اس کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر اور ملعون ترین انسان. اس کا ایمان، نکاح، بیعت سب غارت. جو اعمال کئے تھے سب اکارت. 

اور اگر کہے کہ رسول ﷺ نے زبان مبارکہ سے تکلیف میں ”الله“ کا نام لیا. اور یہ بھی ہے کہ پاگل کی زبان سے بھی لفظ ”الله“ نکلتا ہے. پھر ان دونوں کو بنیاد بنا کر کہے کہ جو رسول نے کہا وہ تو پاگل بھی کہتا ہے. بس اتنا کہنا اسے کافر کر دیتا ہے. اس کا وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا

اسی طرح کی گستاخی، پچھلی صدی میں تھانوی نامی ملعون شخص نے کی تھی کہ کہا: بعض علوم غیبیہ میں رسول کی ہی کیا تخصیص. بعض علوم غیبیہ تو زید، وعمرو، پاگلوں بچوں بلکہ جمیع حیوانات کو حاصل ہے. بلکہ اس سے بھی بدتر عبارت. اور اس گستاخ کا کفر اس سے کہیں بدتر. والله اعلم ورسوله اعلم

اللهﷻ تمام مسلمانوں کو دلوں میں اپنی اور اپنے محبوب کی محبت جِلائے رکھے. آمین یارب العالمین وبجاہ سیدالمرسلین ﷺ

کتبہ ابن علیم المصبور الرضوی العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only