کن صورتوں میں پیر سے بیعت توڑنے اجازت ہے؟



(سئل) کن صورتوں میں پیر سے بیعت توڑنے اجازت ہے؟ بینوا وتوجروا

(فأجاب) چار شرائط ہیں جو پیر میں نہ ہو تو مرید کو بیعت توڑنے کی اجازت ہے
مجدد رحمة الله تعالى علیه فرماتے ہیں ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو
١. سنی صحیح العقیدہ ہو. (مرتد کو مرشد سمجھنا کفر ہے اور بدمذہب کو مرشد بنانا حرام) 
٢. علم دین رکھتا ہو. (یعنی اتنا علم دین رکھنے والا کہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے اور ضروریات دین کا مکمل عالم ہو) 
٣. فاسق نہ ہو (کہ فاسق سے بیعت ممنوع وناقابل ابقا ہے) 
٤. اس کا سلسلہ رسول الله ﷺ تک متصل ہو. (سلسلہ سے مراد اجازت ہے نسب کا تسلسل یعنی سید ہونا ضروری نہیں) 
اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں. (فتاوی رضویہ ٦٠٣/٢١)

کتبه ندیم ابن علیم المصبور العینی 
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0