اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

کن صورتوں میں پیر سے بیعت توڑنے اجازت ہے؟



(سئل) کن صورتوں میں پیر سے بیعت توڑنے اجازت ہے؟ بینوا وتوجروا

(فأجاب) چار شرائط ہیں جو پیر میں نہ ہو تو مرید کو بیعت توڑنے کی اجازت ہے
مجدد رحمة الله تعالى علیه فرماتے ہیں ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو
١. سنی صحیح العقیدہ ہو. (مرتد کو مرشد سمجھنا کفر ہے اور بدمذہب کو مرشد بنانا حرام) 
٢. علم دین رکھتا ہو. (یعنی اتنا علم دین رکھنے والا کہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے اور ضروریات دین کا مکمل عالم ہو) 
٣. فاسق نہ ہو (کہ فاسق سے بیعت ممنوع وناقابل ابقا ہے) 
٤. اس کا سلسلہ رسول الله ﷺ تک متصل ہو. (سلسلہ سے مراد اجازت ہے نسب کا تسلسل یعنی سید ہونا ضروری نہیں) 
اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں. (فتاوی رضویہ ٦٠٣/٢١)

کتبه ندیم ابن علیم المصبور العینی 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست