Headlines
Loading...
سرکارِ رسالت و خلفائے راشدین کے زمانے میں اذانِ ثانی کہاں ہوتی تھی؟

سرکارِ رسالت و خلفائے راشدین کے زمانے میں اذانِ ثانی کہاں ہوتی تھی؟


سرکارِ رسالت و خلفائے راشدین کے زمانے میں اذانِ ثانی کہاں ہوتی تھی؟ تکبیر کے وقت بیٹھے رہیں یا کھڑے ہو جائیں؟ بعد ِاذان صلوٰۃ پکارنا کیسا؟ ہرے درخت کٹوانا عند الشرع جائز ہے

محترم المقام جناب قاضی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسائل ذیل میں کہ

(۱)جمعہ کے دن اذانِ ثانی ہوتی ہے وہ کہاں ہونی چاہیے آیا داخلِ مسجد یا خارجِ مسجد میں؟ یہاں عرصۂ دراز سے مسجد کے اندر ہوتی ہے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں و خلفائے راشدین کے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی احکامِ شرع سے مطلع فرمائیںعین نوازش ہوگی فقط

(۲)تکبیر کے وقت بیٹھنا کیسا ہے؟زید کہتا ہے کہ بیٹھنا نہیں چاہیے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ بیٹھنا چاہیے ؟احکامِ شرع سے آگاہ کریں کہ آیا بیٹھنا چاہیے یا نہیں؟

(۳) اذان کے بعد صلاۃ پکارنا کیساہے؟ بعد اذان کے پکارنا چاہیے یا کس وقت پکارنا چاہیے احکامِ شرع سے آگاہ فرمائیں فقط

(۴) ہرے درخت کٹوانا کیسا ہے؟ زید اس کا پیشہ کرتا ہے ایک دوسرے سے خریدتا ہے اور پھر کٹواتا ہے بکر کہتا ہے کٹوانا نہیں چاہیے تو کٹوانا چاہیے یا نہیں؟ احکامِ شرع سے آگاہ کریں فقط والسلام

العارض محمد صدر الحق امام مسجدضلع فرخ آباد یوپی

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۲) اذان خارجِ مسجد حدودِ مسجد میں مسنون ہے زمانۂ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم و زمانۂ شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں اذانِ جمعہ دروازۂ مسجد ہی پر ہوا کرتی تھی ابو دائود شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے

کان یؤذن بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر[سنن ابوداؤد ج۲ ص۱۵۵کتاب الصلوٰۃباب وقت صلوٰۃ الجامعہ اصح المطابع]

اور کبھی منقول نہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اذان اندرونِ مسجد دلوائی ہو اگر یہ جائز ہوتا تو بیانِ جواز کے لئے ایک مرتبہ تو فرماتے و لہٰذا جملہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی کہ

لا یؤذن فی المسجد [قاضی خاں ج۱ص۵۱کتاب الصلوٰۃباب الاذان دارالفکر بیروت]

مسجدمیں اذان نہ دے واللہ تعالٰی اعلم

امام مسجد میں قریبِ محراب ہو تو امام و مقتدی کو حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہیے اور پہلے سے کھڑا رہنا مکروہ ہے۔بلکہ علماء نے یہاں تک تصریح فرمائی کہ اگر اقامت ہونے پر کوئی مسجد میں آئے تو ختم تک کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو

دُرِّمختار میں ہے دخل المسجد والمؤذن یقیم قعد الی قیام الامام فی مصلاہ

[درمختاروردالمحتار ج۲ ص۷۱ کتاب الصلوٰۃ باب الاذان دارالکتب العلمیۃ بیروت]

اور ردّالمحتارمیں ہے ویکرہ لہ الانتظار قائما ولکن یقعد ثم یقوم الخ

[ردالمحتارج۲ص۷۱کتاب الصلوٰۃ باب الاذان دارالکتب العلمیۃ بیروت]

زید نے غلط مسئلہ بتایا توبہ کرے واللہ تعالٰی اعلم

(۳) بعد ِاذان جائز و مستحسن ہے دُرّمختار میں ہے

التسلیم بعد الاذان حدث فی ربیع الاٰخر سنۃ سبعمائۃ واحدٰی ثما نین فی عشا لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بد عۃ حسنۃ [درمختار ج۲ ص۵۷ کتاب الصلوٰۃ باب الاذان دارالکتب العلمیۃ بیروت]

جزئیہ مذکورہ سے ظاہر کہ یہ عمل مسلمانانِ عالم میں چھ سو برس پیشتر سے ہے اور اسے فرمایا کہ بدعتِ حسنہ ہے تو اسے بدعت ِسیّئہ کہنا ساری اُمت کو گمراہ کہنا ہے واللہ تعالٰی اعلم

(۴) ان کے کٹوانے میں جرم نہیں بکرکیوں منع کر رہا ہے؟ وجہ معلوم کریں واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ فقیر محمد اختررضا خاں ازہری قادری غفرلہ/۱۶؍ذی الحجہ ۱۳۹۸ھ

نقل شدہ فتاویٰ تاج الشریعہ جلد 03 صفحہ نمبر 122 / 123

0 Comments:

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ