Headlines
Loading...
کیا نکاح میں تین بار ایجاب وقبول کرانا ضروری ہے؟

کیا نکاح میں تین بار ایجاب وقبول کرانا ضروری ہے؟


مسئلہ بخدمت گرامی حضرت مفتی صاحب دارالقضاء ادارۂ شرعیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

خداکرے مزاج گرامی بخیرہوں ذیل کے استفتاء کا جواب دے کر مشکورفرمائیں گے تاخیرنہ کریں گے

(۱) قاضی اگر دوگواہوں کے سامنے لڑکی سے (کلمہ اول دوم ایمان مفصل و مجمل پڑھانے کے بعد) پوچھتا ہے کہ کیاآپ مجھے اس بات کا اختیار دیتی ہیں کہ بہ عوض اتنا روپیہ سکہ رائج الوقت علاوہ نان ونفقہ کے آپ کانکاح فلاں لڑکے سے (لڑکے کا نام مع ولدیت و پتہ وغیرہ بتلاکر) کرادوں ؟ جواب میں لڑکی ہاں کہتی ہے (لڑکی بالغہ ہے) قاضی واپس لڑکے کی محفل میں آکر لڑکے سے کہتاہے کہ فلاں فلاں دوگواہوں کے سامنے (گواہوں کا تعارف لڑکا اور لڑکی دونوں ہی سے کرایاجاچکاہے) لڑکی نے مجھے اس کا اختیار دیا ہے کہ اتنا روپیہ سکہ رائج الوقت علاوہ نان ونفقہ کے عوض اُ س کا (لڑکی کا) نکاح تُم سے کرادوں (لڑکی کا نام مع ولدیت پتہ وغیرہ بھی بتلایا جاچکا ہے) اس لئے بی بی فلاں بنت فلاں کا نکاح بہ عوض اتنا روپیہ سکہ رائج الوقت علاوہ نان ونفقہ کے آپ سے میں نے کیا آپ نے قبول کیا؟ لڑکے نے قَبِلْتُ میں نے قبول کیا کہا تین بار قاضی انہیں الفاظ کو دہراتا ہے اور لڑکا بھی قبلت میں نے قبول کیا کہتاہے بعدہٗ خطبۂ مسنونہ پڑھ کر دُعا کرادی جاتی ہے۔ کیا اتنا کہنے اور کرنے سے نکاح درست ہوا یانہیں ہوا؟

(۲) کیا نکاح میں تین بار ایجاب وقبول کرانا ضروری ہے؟

(۳) کیامحفل نکاح میں لڑکے لڑکی کو کلمہ پڑھانا (جب کہ دونوں کلمہ پڑھتے اور جانتے ہوں ) یا دُعائے قنوت پڑھانا ضروری فرض یا شرائط نکاح میں سے ہے؟

(۴) کیادین مہرمیں دینار سُرخ کا تذکرہ بھی ضروری یا شرط نکاح ہے؟

(۵) دینار کے عوض (لڑکا لڑکی کی منظوری سے) روپیہ کی مقدار معین کرلینا درست ہے یانہیں ؟ مثلاً فی دینار ۲۵ یا ۵۰ روپئے۔

(۶) ایک دینار سُرخ کتنے ہندوستانی سکہ کے برابر ہوگا؟

(۷) اگر بیوی اورشوہر کے مابین دین مہر کی مقدار کے متعلق تنازعہ ہوجائے تو کس کی بات درست مانی جائے گی؟

(۸) اگرنکاح کے وقت دین مہرمیں سکہ رائج الوقت کے ساتھ دو دینار سُرخ کہہ کر عقدباندھاگیا اور بعدمیں کسی وقت بیوی اورشوہرمیں نزاع وافتراق کی نوبت آگئی تو ایک دینار کے عوض کتنے روپے واجب الادا ہوں گے اور ایسی صورت میں شریعت کس کی بات کو درست مانے گی اور تسلیم کرے گی؟

(۹) اگرایجاب وقبول عربی اُردوکے بجائے انگریزی لاطینی یا چینی کسی بھی دُوسری زبان میں ( جب کہ گواہان اور لڑکا لڑکی اس زبان کوسمجھتے ہوں ) کرایاجائے تو نکاح درست ہوگا یانہیں ؟

(۱۰) جواز نکاح کے لئے کن کن باتوں کا ہونا ضروری ہے ؟یعنی شرائط نکاح کیاکیاہیں ؟ ہندوستان میں دینارکو سکہ رائج الوقت کہنا درست ہے یانہیں ؟ مثلاً پانچ سوروپئے دو دینار سرخ سکہ رائج الوقت

(۱۱) ایجاب و قبول کا صحیح طریقہ تحریر فرمائیں خود کو قاضی تصور کرتے ہوئے براہ کرم مذکورہ سوالوں کے جواب مع حوالۂ کتب معتبرہ کے دیں تاکہ بریلوی یادیوبندی کا سوال نہ اُٹھ سکے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیردے۔ فقط والسلام

المستفتی عبدالحمید سینٹرل سوندا کولیری ضلع ہزاری باغ

۲۸؍ذی الحجہ ۹۱ ؁ھ

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱) بصورت مذکورہ نکاح بالکل صحیح ودرست ہوگا شرعاً اس میں کوئی نقص وخرابی نہیں خطبۂ نکاح قبل ایجاب وقبول پڑھاجائے یا بعد دونوں طریقہ سے جائزہوگا پہلے خطبہ پڑھنا مسنون ہے

(۲) تین بار کہنا ضروری نہیں ایک بار کہنے سے بھی نکاح ہوجائے گا ہاں تین بار بہتر اولیٰ ہے۔

(۳) کلمہ وغیرہ پڑھانا نہ فرض ہے نہ واجب نہ شرائط نکاح سے ہے کلمہ نہ پڑھانے سے نکاح میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ جب دونوں ہی مومن ومسلم ہیں پھرکلمہ پڑھانے کی کیا حاجت اگرکلمہ پڑھایا گیا تواس میں بھی کوئی حرج نہیں

(۴) دینار کا تذکرہ بھی نہ ضروری ہے نہ شرط نکاح سے ہے بلکہ عبث اورغیر ضروری ہے کیونکہ دینار سُرخ اب نایاب نہ سہی کمیاب ضرور ہے اس لئے اس کا تذکرہ فضول ہے

(۵) جب کہ دینار سُرخ رائج نہیں توا س کا مہرمیں مقرر کرنا لغو وعبث ہے اس کے عوض روپے کا اضافہ ہی بہتر وضروری ہے۔

(۶) دینار سُرخ سونے کا ہوتاتھا اور سونے کی قیمت کے اعتبار سے دینارکی قیمت میں بھی کمی زیادتی ہوتی تھی اور اب بھی وہی حساب ہوگا ایک دینار غالباً(۷؍)بھر کے قریب ہوتاتھا اس وقت اس کی قیمت موجودہ سکے کے اعتبار سے تقریباً ایک سوبیس روپئے ہوگی

(۷) اگرعورت مہرمثل یا اس سے زیادہ کا دعویٰ کرتی ہے توقسم کے ساتھ اس کی بات تسلیم کی جائے گی اور اگرشوہر مہرمثل یا اس سے کم کی مقدار بتاتا ہے توقسم کے ساتھ، مردکی بات مانی جائے گی اور دونوں میں سے جوگواہ پیش کرے گا اس کی بات تسلیم کی جائے گی اگردونوں قسم کھائیں یا دونوں گواہ پیش کریں تومہرمثل دینا واجب ہوگا وہواعلم

(۸) اس کاجواب نمبر۶ اور ۷ میں دیاجاچکا ہے کہ دینار کی قیمت میں سونے کی قیمت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے ۔فی الحال تقریباً ایک سوبیس یا ایک سو پچیس روپے کا ایک دینار ہوگا جوقسم کھائے یا گواہ پیش کرے اسی کی بات تسلیم کی جائے گی

(۹) نکاح درست ہوجائے گا

(۱۰) شرائط نکاح میں عورت مَردکا عاقل ہونا بالغ ہونا دوگواہوں کا موجودہونا گواہوں کا مسلمان ہونا اورمنکوحہ کی تعین بھی ضروری ہے ہندوستان میں دینار سکہ رائج الوقت نہیں ایسا کہنا لغو ہے جوروپیہ عام طور چلتا ہے وہی سکہ رائج الوقت ہے

(۱۱) سوال نمبر۱ میں جوطریقہ لکھا ہے وہ صحیح ودرست ہے ایجاب وقبول کا بصیغۂ ماضی ہونا بہتر ہے صیغۂ حال سے بھی نکاح ہوجائے گا نکاح سے قبل خطبہ پڑھنا مستحب ہےایجاب وقبول کا ایک مجلس میں ہونا ضروری ہے نکاح بذریعہ وکالت یا ولایت بھی صحیح ہے وہ واعلم

کتبہ محمد فضل کریم غفرلہ الرحیم رضوی خادم دارالافتاء ادارۂ شرعیہ بہار پٹنہ

نقل شدہ فتاویٰ ادارہ شریعہ جلد سوم صفحہ نمبر ٣٧١ / ٣٧٢ / ٣٧٣

0 Comments:

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ