مسجد میں اذان کہاں سے دینی چاہیئے؟


 نماز کےلیے اذان مسجد میں کس جانب سے دی جائے اور کہاں سے دی جائے ؟

محمد ابراہیم خان نصوپور دھرھرا مئو  یوپی

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نماز پنج گانہ اور جمعہ کی اذان اول کے لیے کوئی جگہ کوئی سمت مقرر نہیں کسی اونچی جگہ سے دی جائے اور وہ بھی اس جگہ سے جہاں سے پڑوسی زیادہ سے زیادہ سن سکیں۔ در مختار میں ہے فی مکان عال

اس کے تحت شامی میں ہے

وفي السراج وینبغي للمؤذن أن یؤذن في موضع یکون أسمع للجیران بہت سی مسجدوں میں اذان کے لیے مئذنہ بنا ہوتا ہے بہتر ہے کہ اسی پر اذان دی جائے

غنیہ وغیرہ میں ہے الأذان إنما یکون علی المئذنۃ أو خارج المسجدوالإقامۃ في داخلہ

البتہ مسجد کے اندر یعنی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جو جگہ معین ہے اس میں اذان نہ دے مسجد کے اندر مطلقا اذان دینا مکروہ ہے خلاصہ خانیہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ولا یؤذن في المسجد

نظم امام زندویستی پھر قہستانی پھر طحطاوی علی المراقی میں ہے یکرہ أن یؤذن في المسجد

واللہ تعالی اعلم ۲۴؍ ربیع الآخر ۱۴۱۹

نقل شدہ فتاویٰ حافظ ملت جلد دوم صفحہ نمبر 292

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0