خود کا خون پی لیا تو کیا حکم ہے؟



 مسئلہ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے۔ سوال عرض ہے کہ منہ سے خون آیا اور آدمی نے اس کو نگل لیا تو شرعاً کیا حکم ہے؟ چونکہ دم مسفوح حرام ہے۔ وضاحت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں


(جواب) بالکل حرام ہے اور اس پر لازم ہے کہ خون کو حلق تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مکمل احتیاط کرے جب بھی منہ میں خون محسوس ہو تھوک دے کہ اسے نگلنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس کے علاوہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے دستیاب اَدویات کا استعمال کرے تاہم اگر پوری احتیاط اور طبی ہدایات پر عمل کرنے کے باوجود بلا قصد کچھ خون حلق میں چلا جائے، تو اس صورت میں مریض پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ وضو میں منہ سے خون نکلنے پر رنگ کے اعتبار سے حکم ہوگا: اگر تھوک میں سرخی غالب ہو تو وضو ٹوٹے گا ورنہ نہیں اور روزے کی حالت میں اگر خون کا ذائقہ محسوس ہو تو روزہ فاسد ہوگا ورنہ نہیں وضو کے لیے رنگ اور روزے کے لیے ذائقہ کا اعتبار ہے کیونکہ روزے میں رنگ کا ادراک مشکل ہوتا ہے

والله تعالى أعلم بالصواب 

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر زید کے پاس ذاتی مکان نہ ہو اور اس کی آمدنی بھی کم ہو، وہ کرایہ بھر بھر کر تھک گیا ہو اور اس نے اپنا مکان خریدنے کے لیے تھوڑے تھوڑے کرکے دو تین لاکھ روپے جمع کیے ہوں، تو کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہے؟

(جواب) اگر زید نے مکان خریدنے کے ارادے سے رقم جمع کی ہے لیکن ابھی اس سے مکان نہیں خریدا تو اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی بشرطیکہ اس پر اتنا قرض نہ ہو کہ اسے منہا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچے اس ادائیگی کو تنگی کا سبب نہیں سمجھنا چاہیے

والله تعالى أعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی 


ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ