فلمیں اور ڈرامے دیکھنا کیسا ہےــــــــــــــ



     السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
  
           ســــــــــــــــــــــوال 

کیا فرماتے ہے علمائے کرام اس مسئلہ میں _____ زید کی دو چھوٹی بہنیں گناہوں مبتلاء ہے جیسے موبائل فون میں فلمیں ڈرامے اور دن بھر سوشل مڈیا کا استعمال انسٹاگرام واٹساپ وغیرہ رات میں ایک ایک بجے تک استعمال کرنا اور نماز نہ پڑھنا اور باہر بے بردہ گھومنا اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ذرا سی شرم نہیں بلکہ یہ خیال ہے کہ زمانہ ابھی ایسا ہی ہے معذاللہ اور دنیا وی پڑھائ کے لئے تو اتنی محنت کرتی ہے رات کے چار بجے اٹھ کر پڑھائ کرتی ہے امتحان کے دنوں میں کلیکٹر بن نے کا ہے زید کی بہن کو اس لئے لیکن آخرت کا ذرا سا خوف نہیں زید نے دونوں کو سمجھایا شوشل مڈیا کا اتنا استعمال نہ کرو اور گانے فلمیں ڈرامے نہ دیکھو جواب بہت ہی بد تمیزی کے ساتھ دیا گیا زید کو ہماری مرضی ہم جو چاہے کریں اسلیئے زید نے ایک مفتی صاحت کو بتایا انکے کہنے پر زید نے قتع تعلق کر لیا ہے بات جیت سب بند کر لیا ہے کیا زید یہ عمل درست ہے اتنا ہی نہیں زید بڑا بھائ ہے لیکن زید کے پیٹھ پیچھے یا کبھی کبھی سامنے زید کا تزکرہ کرتے ہے تو بہت بد تمیزی کے ساتھ بولتی ہے اور کبھی کسی بات پر حجت ہو جائے تو زید کو گالی بھی دی جاتی ہے ______ مفتیان کرام سے گزاریش ہے اس پر روشنی دالی جائے اور اتمینان قلب جواب فرمائے

         سائل ـــ محمد شاہ رخ رضوی 

       وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 *📚 الجوابـــــ بعون الملک الوھابــــ👇

صورت مسئولہ کا جواب ملاحظہ ہو کہ
شریعت مطہرہ میں جو گانے کے فحش اشعار اور مخرب اخلاق امور پر مشتمل ہوتے ہیں یا مزامیر پر گائے جاتے ہیں انھیں سننا اور فلم دیکھنا یہ سب افعال ناجائز و حرام ہے لھذا ان معاصی کا عادی گنہگار اور مستحق نار ہے
غنیة شرح منیہ میں ہے
ولو قدموا فاسقا یا ثمون
 ص 513

📗 اور در مختار جلد اول ص 457 میں ہے

کل صلوة ادیت مع کراہةالتحریم تجب اعادتھا
زید کی بہنوں کو چاہئے کہ اپنے ان اقوال قبیحہ اور افعال شنیعہ کو کلی طور پر چھوڑ دیں اور ان سے پرہیز کریں اور صدق دل سے توبہ کر لیں
حدیث پاک میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے گناہ ہی نہیں کیا 
التائب من الذمن کمن لا ذنب لہ
مشکوة شریف 206
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین کھیلوں کو جائز فرمایا ہے تین کھیلوں کےعلاوہ باقی تمام کھیل کھیلنا جائز نہیں ہے
اور رہا زید کی بہنوں کو تو عورتوں کو غیر محرم کے ساتھ بے پردہ گھومنا ناجائز و حرام ہے
حدیث پاک میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
والا لا یخلون رجل بامراة الا کان ثالثہ مما شیطان
اور الاشباہ والنظائر میں ہے
تحرم الخلوة بالاجنبیة ویکرہ الکلاممعھا
اور سوال مذکور سے واضح ہے کہ زید نے اپنی دونوں بہنوں کو منع کیا ہے پھر بھی نہیں مانتیں تو پھر زید اس سے بری الذمہ ہوگیا اب اسکی بہنیں نہیں رکتی برے کام سے تو وہ گناہ گار مستحق نار ہیں اور وہ دیوث ہیں
حدیث پاک میں ہے
ثلاثة لایدخلون الجنة ابدا الدیوث والرجلة من النساء ومدمن الخمر
📗اور در مختار جلد سوم ص 202 باب التعزیر میں ہے

ان الدیوث ھوا من لا یغار علی امراتہ او محرمہ وھوا فاسق واجب التعزیر
اور جب زید کے سمجھانے پر باز نہیں آئیں تو زید نے ان سے قطع تعلق کر لیا زید کا یہ کرنا بلکل درست ہے
کیوں کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ👇
واما ینسینک الشیطن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین
📗 پ 7 سورہ انعام آیت 68

           واللہ تعالی اعلم باالصواب

        {{🖊}} شــــــــرف قــلــــم 

حضرت علامہ و مولانا محمد انیس الرحمن حنفی رضوی صاحب قبلہ

بتاریخ 4 ربیع الثانی1441ھ/ 2 دسمبر 2019ء

 { اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ }

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے