لفظ محمد پر انگوٹھا چومنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہ لفظ محمد پر انگوٹھا چومنا کہا سے ثابت ہے برائے مہربانی مکمّل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام 

محمد شاکر رضوی
++++++++++++++++++++++++++++
وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ

        *الجــواب :۔*
 حضور اکرمﷺ کا نامِ نامی اسمِ گرامی *مـحــمّــدﷺ* سنکر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا مستحب ہے۔ 
*دلیل نمـبـــر (* ١ *)* حـدیث پاکـــــ ہے کہ:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کا نام سنکر اپنے انگوٹھوں کو چوم کر اپنی آنکھوں پر پھیرا اور کہا، *قَـرَّةُ عَیْنِی بِکَ یَـارَسُـوْلَ اللّٰہ*" یا رسول اللّٰہ آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں جب اذان ختم ہوئ تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر ! جو تمہاری طرح میرا نام سنکر انگوٹھے کو آنکھوں پر پھیرے اور جو تم نے کہا وہ کہے، اللّٰہ تعالیٰ اسکے تمام نئے، پرانے ظاہر وباطن گناہ معاف فرمائےگا۔ *(*📖تفسير روح البیان، جلد ٤ ص ٦٤٨ *)*
           *دلیل نمبــر (* ٢ *)* حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اذان دیتے ہوئے جب *اَشْھَـدُ اَنَّ مُحَمَّدًا* پر پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا یہ دیکھکر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا جو میرے ابوبکر صدیق کی طرح کرے تو میں کل قیامت کے دن اسکی شفاعت کرونگا۔ *(*📖 بحوالہ : موضوعات کبیر، مقاصد حسنہ' ص٣٨٤ *)* 
*نـوٹ :۔* انگوٹھے چومنے والی یہ حدیث کا جواب خود حضرت ملّا علی قـاری علیہ الرّحمـہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :جب اس حدیث کا رفع کار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک ہے تو یہ عمل کیلئے کافی ہے۔ *(*📖 مـوضوعـات کبـیــر *)*
*تنبیــہ ☜* یاد رہے قرآن پاک کی تلاوت میں جب لفظ *مـحــمّــد* آئے تو اسوقت چومنا جائز نہیں ہے۔ یونہی خطـبــہ میں سرکارﷺ کا نام آئے تو چومنا جائز نہیں ہے، کیونکہ خطبہ کا سُننا فرض ہے۔ اور جن تک خطبــہ کی آواز نہیں پہنچتی ان کا خاموش رہنا اور خطبہ کیطرف دھیان لگانا واجب ہے۔ اور قرآن پاک کے متعلق بھی یہی حکم ۔ قرآن کی تلاوت کے وقت خاموش رہنا واجب ہے۔ اور مذکورہ عمل مستحبات میں سے ہے۔

   واللّٰہ ورسولہ اعلم بالصواب

✍🏼 کتبــہ *:۔* محـمـد عـمــرفـاروق ربّـانی
اســـــلامی مـــعــلـومات گــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے