لقمہ کا شرعی حکم



   اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ


الســـــــــــــوال👈🏽 کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لقمہ دینا کب فرض ہے کب سنت کب واجب کب مکروہ برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام

       سائل👈🏽 محمد شاکر رضوی



        وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

        📚✒الجوابــــ بعون الملک والھابـــــ

صورت مسوئلہ میں جواب یہ ہے کہ لقمہ دینا کبھی فرض ہوتا کبھی واجب کبھی جائز کبھی مکروہ اور کبھی حرام ہوتا ہے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں👇
فـــــرض. 👈🏽 جب امام ایسی غلطی کریں جو نماز کو فاسد کرنے والی ہو تو ایسی صورت میں لقمہ دے کر اصلاح کرنا مقتدی پر فرض کفایہ ہے امام اہلسنت مجد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ جب امام ایسی غلطی کرے جو موجب فساد نماز ہو تو اسکی بتانا اور اصلاح کرنا ہر مقتدی پر فرض کفایہ ہے ان میں سے جو بتا دیگا فرض سب سے اتر جائے گا اور اگر نہ بتایا تو جتنے جاننے والے تھے مرتکب حرام ہونگے اور نماز سب کی باطل ہو جائے گی
وذالک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلواۃ وھو حرام بقولہ تعالیٰ (ولا تبطلوا اعمالکم) وجہ یہ کہ غلطی جب مفسد ہو جائے تو اس کی اصلاح کرنے خاموشی' نماز کے باطلان کا سبب ہے
اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پاک کی وجہ سے حرام ہے کہ تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو
اور ایک کا بتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط ہو گا یہاں تک کہ حاجت پوری ہو اور امام کو وثوق حاصل ہو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے بتائیں سے امام کا اپنی غلط یاد پر اعتماد نہیں جاتا ہے اور وہ اس کی تصحیح کو نہیں ماننا اور اسکا محتاج ہوتا ہے کہ متعرد شہادتیں اس غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہوگا کہ دوسرا بھی بتائیں اور اب بھی امام رجوع نہ کریں تو تیسرا بھی تائید کریں یہاں تک کہ امام صحیح کی طرف واپس آئے

📗بحوالہ فتاوٰی رضویہ جلد 7 ص 280 رضا فاؤنڈیشن لاہور

*واجـــب*👈🏽 اگر امام ایسی غلطی کریں جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہر مقتدی پر واجب کفایہ ہے امام اہلسنت مجد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ اگر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہر مقتدی پر واجب کفایہ ہے اگر ایک بتا دیں تو اس کے بتانے سے کاروائی ہو جائے تو سب پر سے واجب اتر جائے گا ورنہ سب گنہگار ہونگے

📗بحوالہ فتاوٰی رضویہ جلد 7 ص 280 رضا فاؤنڈیشن لاہور

جائــز. 👈🏽 قرآت میں ایسی غلطی ہو جائے جس سے فساد نماز یا ترک واجب لازم نہ آ رہا ہو تو لقمہ دینا جائز ہے امام اہلسنت مجد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر (قرآت کی) غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب جب بھی ہر مقتدی کو مطلقاً بتانے کی اجازت ہےــــــــــــــ

📗بحوالہ فتاوٰی رضویہ جلد 7 ص 281 رضا فاؤنڈیشن لاہور

مذکورہ صورت صرف جائز ہے (یعنی واجب نہیں) مگر دو صورتوں میں مزکورہ صورت الحال میں بھی لقمہ دینا واجب ہو جاتا ہے
(1) یہ خطرہ ہو کہ امام تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار چپ ہو جائے تو لقمہ دینا واجب ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار سکوت کرنے سے نماز مکروہ تحریمی ہو جاتی ہے
(2) امام کی عادت معلوم ہے کہ جب بھولتا ہے تو اوہ آں جیسے الفاظ نکلنے لگ جاتے ہیں تو اس صورت میں بھی لقمہ دینا واجب ہے کہ اس طرح کے الفاظ نکالنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ اوپر والی عبارت سے متصل آگے فرماتے ہیں مگر یہاں وجوب کسی پر نہیں لعدم الموجب (واجب کرنے والی چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے) *اقــــوال*👈🏽 (میں کہتا ہوں) مگر دو صورتوں میں ایک یہ کہ امام غلطی کرکے خود منتبہ ہوا اور یاد نہیں آتا یاد کرنے کے لئے رکا اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی قدر رکے گا نماز میں کراہت تحریم آئے گی اور سجدہ سہو واجب ہوگا تو اس صورت میں جب اسے رکا دیکھیں مقتدیوں پر بتانا واجب ہوگا کہ سکوت قدر ناجائز تک نہ پہنچے دوسرے یہ کہ بعض ناوافیقوں کی عادت ہوتی ہے جب غلطی کرتے ہیں اور یاد نہیں آتا تو اضطراراً ان سے بعض کلمات بے معنی صادر ہوتے ہیں کوئی اوں اوں کہتا ہے کوئی کچھ اور اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے تو جس کی یہ عادت معلوم ہو وہ جب رکنے پر آئے تو مقتدی پر واجب ہے کہ فوراً اسے بتائیں قبل اس کے کہ وہ اپنے عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے

📗بحوالہ فتاوٰی رضویہ جلد 7 ص 281 رضا فاؤنڈیشن لاہور

مکروہ 👈🏽 امام اگر قرآت میں رکے اسے فوراً بتانا مکروہ (تنزہی ہے) شامی میں ہے بکرہ ان یفتح من ساعنہ ترجمہ فوراً لقمہ دینا مکروہ ہے

📗بحوالہ درالمختار جلد 1 ص 623 (ایج ایم سعید کمپنی کراچی)

امام اہلسنت مجد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں امام کو فوراً بتانا مکروہ ہے

📗بحوالہ فتاوٰی رضویہ جلد 7 ص 286 رضا فاؤنڈیشن لاہور

حرام 👈🏽 بے محل لقمہ دینا حرام ہے اور اس سے لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اور امام لقمہ لے تو اس کی نماز بھی فاسد ہو جاتی ہے

              واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

                     کتبـــــــــــــــــہ

حضرت علامہ ومولانا محمد شفیق رضا رضوی صاحب قبلہ 

        09/ربیع الثانی 1441ھ=07/دسمبر 2019ء

          ☘( اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ )☘

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے