قبر میں بیر کی ٹہنی رکھنا کیسا ہے

        السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ قبر میں جو بیر کی ٹہنی ڈالی جاتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے برائے کرم جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل محمد حسیب رضوی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ 
الجواب: صورت مسؤلہ میں بیر ڈالنے کی حکمت کیا ہے اس کے متعلق حضور صدرال
شریعہ علیہ الرحمہ اپنی کتاب " فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 339 "پر تحریر فرماتے ہیں کہ :
" یہ کسی کتاب میں نظر سے فقیر کےنہ گزرا کہ اس میں کیا حکمت ہے - بلکہ قبر میں رکھنے کا جزیہ بھی نہ دیکھا - غالباً یہ وجہ ہوگی کہ قبر میں تر لکڑی رکھنا سبب تخفیف عذاب و انس میت ہے - "
اس کے بعد آپ نے وہ حدیث شریف تحریر فرمائی ہے جس سے مؤمن کی قبر پر پھول ڈالنے کو علمائے اہل سنت استنباط کرتے ہوئے مستحب قرار دیا ہے - 
پھر آگے آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :
"بالجملہ تر لکڑی ( ٹہنی) رکھنے کی وجہ تو یہ ہے کہ سبب تخفیف عذاب ہے -
مگر...!!! یہ بیر کی کیوں رکھتے ہیں ...؟ شاید سدرۃ المنتہی کی نسبت کی وجہ سے اس کو اختیار ہوا - 
اور ہمارے یہاں انار کی بھی رکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوگی کہ انار جنت کا درخت ہے - اگرچہ انار دنیا کو انارجنت سے مشارکت حقیقتاً نہیں مگرمشارکت اسمی تو ہے - اور برکت و تفاول ( نیک فال) کے لئے اتنی مناسبت معتبر ہو سکتی ہے -"
تاہم عرض یہ ہے کہ شرع شریف میں جس چیز کی ممانعت نہیں اس کے جائز ہونے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے اور شریعت میں کہیں بھی بیر کی ٹہنی رکھنے کی شریعت میں ممانعت نہیں آئی ہے -
نیز ہری ٹہنی کی تسبیح سے میت کو فائدہ پہنچتا تو ہے ہی اور ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ کانٹے دار ہوتی ہے اس کی وجہ سے جانور کو میت کی نعش نقصان نہیں پہنچا سکے گا - کیونکہ قبر کھودتے کھودتے جب کانٹے تک پہہنچے گا تو چھوڑ کر چلا جائے گا -

                   واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

              کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی جعفر صاحب

                    اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے