طلاق مغلظہ کے بعد بیوی کو رکھنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسںٔلہ کے بارے میں کےزیدنےاپنی بیوی کو تین بار کہا کے میں تم کو جواب دیاپھراسےوطی کیااور اسےایک بچہ پیدا ہوا تو اب زیدپرشریعت کاکیاحکم ہے مدلل جواب دیں
ساںٔل محمد رںٔیس رضا مقام دربھنگہ بھار


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب
 اگریہ جملہ کہ تم کوجواب دیااگروہاں کےعرف میں طلاق کےالفاظ صریحہ سےسمجھاجاتاہے تواسکی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی جبکہ مدخولہ ہو

*🖊جیساکہ سرکارفقیہ ملت علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں*
کہ اگرجواب دینااگروہاں کےعرف میں طلاق کےالفاظ صریحہ سےسمجھاجاتاہے کہ جب عورت کی نسبت اس کوبولاجاتاہے طلاق ہی مفہوم ہوتی ہے توزیدکی عورت اگرمدخولہ ہے تواس پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اگرچہ شوہرطلاق کی نیت نہ کی ہواس لئے کہ صریح میں نیت کی ضرورت نہیں اس صورت میں بغیرحلالہ ہندہ زیدکیلئے حلال نہیں 

ھکذافی بہارشریعت حصہ ہشتم صفحہ 10

فتاوی فقیہ ملت جلددوم صفحہ 40


اور طلاق مغلظہ کےبعدبیوی فورانکاح سےنکل جاتی ہے لہذا ان دونوں نے وطی نہیں کی بلکہ زناکیاہے اورجوبچہ پیداہواہے وہ بھی ولدالزناکہلائےگا لہذا ان دونوں کوچاہئے توبہ استغفارکریں اورفوراایک دوسرےسےجداہوجائیں اورعورت کسی سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کریے پھر اگروہ طلاق دےیاانتقال کرجائے تو بعد عدت شوہراول سےنکاح کرسکتی ہے

اگروہ ایسانہ کریں تولوگوں پرلازم ہیں کہ وہ انکا بائکاٹ کریں کہ ان کےپاس اٹھنابیٹھناکھاناپیناسب چھوڑدیں 

جیساکہ رب تبارک وتعالیٰ ارشادفرماتاہے 

*واماینسینک الشیطٰن فلاتقعدبعدالذکریٰ مع القوم الظلمین*


              واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

        محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

              اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے