جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے پر عندالشرع کیا حکم ہوگا


         اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص جان بوجھ کر نماز جمعہ ترک کرتا ہے تو عندالشرع اس پر کیا حکم نافذ ہوگا برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام

         سائل   محمد  شاکر رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

    الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

 نماز جمعہ ہو یا پنچوقتہ نماز یہ فرض ہے اسےجان بوجھکر چھوڑنے والا سخت گنہگار اورگناہ کبیرہ کا مرتکب ہے تارک جمعہ پر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وعید فرمائ ہے حدیث شریف ملاحظہ ہو مَنْ تَرَکَ الْجُمْعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ ﷲُ عَلَی قَلْبِهِ. یعنی جان بوجھ کر تین جمعہ ترک کر دینے والے کے دل پر ﷲ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے ترمذی الجامع الصحيح، ابواب الجمعة باب ماجاء فی ترک الجمعة من غير عذر، 1 510 نیز ابن عباس و ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہم سے روایت ہےکہ حضور اقدس صلیﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آئیں گے یا ﷲ تعالیٰ انکے دلوں پر مہر کر دے گا پھرغافلین میں ہو جائیں گے ( مسلم نسائی و ابن ماجہ) اور ابن خزیمہ و حبان کی ایک روایت میں ہے جو تین جمعے بلاعذر چھوڑے، وہ منافق ہےاور امام شافعی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ وہ منافق لکھ دیا گیا اس کتاب میں جو نہ محو ہو نہ بدلی جائے اور ایک روایت میں ہے جو تین جمعہ پے درپے چھوڑ ے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔ اس کو ابو یعلیٰ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے بسند صحیح روایت کیا الحاصل کلام یہ ہے کہ نماز جمعہ ترک کر ے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اس پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ کرے اور ظہر قضا ادارے

         والـــلـــہ اعـــــــلـــم بـــالصــــواب

        (🖍 ) شـــــرف قــــلـــم (👇)

 گدائے غوث اعظم محمد صاحب جان رضا اختری حشمتی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے