کافر کس کی امت ہیں


              

           السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ .ھندؤ.کس کی امت ھے .قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیجۓ 
برائے مہربانی
                  الســــاٸل حافظ محمد رضا پٹنہ بہار 
                  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                       الجواب بعون الملک الوہاب
_____________________________________________ 
ہمارے آقا حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی نبوت و رسالت عام ہے کسی فرد ، قوم ، ملک ، و مخلوق کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر مخلوقات ارض و سمإ کیلٸے نبی و رسول بن کر تشریف لاٸیں 
اور ہر انسان امت محمدیہ ﷺ میں داخل ہے چاہے وہ قوم مسلم ہو یا قوم کافر 
ہمارے آقا حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی عمومِ رسالت و نبوت متعدد آیات قرآنی و کتب احادیث سے ثابت ہے اختصارا ملاحظہ فرماٸیں 👇🏻
ارشاد باری تعالی ہوا 
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا 
ترجمہ ۔۔اےمحبوب تم فرماؤکہ اےلوگو۔میں تم سب کی طرف اللہ کارسول ہوں 
پارہ 9سورۃ الاعراف آیت ١٥٧ ) 
اس آیت مقدسہ کے تحت سرکارحکیم الامت مفتی احمدیارخاں نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں
یہ آیت کریمہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نعت شریف ہےاس میں ارشادہواکہ اےمحبوب تم سب لوگوں سےکہدوچاہئےوہ عیسائی ہویاموسائی ۔پارسی ہوں یامجوسی مشرقی ہوں یامغربی جنوبی ہوں یاشمالی کہ میں تم سب کی طرف اللہ کارسول ہوں 
اب جو انسان اللہ تعالیٰ کابندہ ہےوہ حضورعلیہ السلام کاامتی ۔حضرت آدم علیہ السلام ابوۃ اورحضورعلیہ السلام کی نبوت سب کوعام ہےبلکہ حقیقت یہ ہےکہ تمام انبیائےکرام اوران کی امتیں اورتمام رسل جنات وملائکہ سب ہی حضور علیہ السلام کےامتی ہیں اورسرکارصلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیاءہیں اور حدیث مبارکہ میں ہےحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً ‘‘ یعنی میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔( مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص۲۶۶، الحدیث: ۵(۵۲۳)) علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی تمام موجودات کی طرف (رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ) خواہ وہ جن ہو یا انسان یا فرشتے یا حیوانات یا جمادات ( مرقاة المفاتیح الحدیث ٥٧٤٨ ) 

اب امت دوطرح کی ہے

ایک امت اجابت
دوسری امت دعوت

جس کوتبلیغ توہوئی مگراس نےقبول نہ کیاوہ امت دعوت کہلاتی ہےاورجس نے قبول کرلیاوہ امت اجابت ہےمسلمان توحضورعلیہ السلام کی امت اجابت ہیں اورکفارومنافقین امت دعوت ہیں چاہئے لوگ حضور علیہ السلام کی اطاعت کرےیانہ کرےامت ضرورہیں 
اللہ کےبندےسب ہی ہیں مسلمان بھی اورکافربھی مسلمان تومطیع بندےہیں اورکافرنافرمان بندےمگربندگی سےکوئی علیحدہ نہیں ۔اسی طرح چاہئےلوگ احکام قبول کریں یانہ کریں امتی سب ہی ہیں اورسب پرآپ کی اطاعت فرض ہے 
بحوالہ شان حبیب الرحمن صفحہ 90
نوٹ :- آیات قرآنی وکتب احادیث میں امت محدیہ ﷺ کی جتنی بھی فضائل و مناقب بیان ہیں وہ امت اجابت کیلٸے ناکہ امت دعوت کیلٸے کیونکہ امت دعوت پر فرض ہیکہ وہ نبی ﷺ پر ایمان لاٸیں 

                واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

           محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

              اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. ماشإ اللہ بہت اچھا لگا معلومات حاصل کر کے

    جواب دیںحذف کریں
  2. السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ جی عرض یہ ہے کہ جب ساری مخلوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہیں تو
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے ہی 73 فرقوں میں بٹینگے یا انسان وجن میں 73 فرقے ہونگے ؟؟؟
    بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی فقط والسلام

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ