سورۃ فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھنا کیسا ہے




            السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

سوال : اگر کوئی شخص نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھا تو کیا حکم ہوگا اگر چہ تھوڑا ہی پڑھا ہو
برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب ارسال فرمائیں

              المستفتی : محمد راشد علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
         وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

                الجواب بعون المک الوہاب 

 اگر کسی نے فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے تشہد ( التحیات ) پڑھ لی تو چونکہ وہ ثنا کا محل ہے اور التحیات میں بھی حمد و ثنا ہے اس لئے اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ، ہاں اگر سورۂ فاتحہ کے بعد التحیات پڑھی تو سورت میں تاخیر یا رکوع میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا ، اور فرض کی آخری دو رکعتوں میں چوں کہ قراءت واجب نہیں ہے اس لئے ان دونوں رکعتوں میں بھی التحیات پڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ۔ اسی طرح سنتِ مؤکدہ کی پہلی رکعت اور سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کی پہلی اور تیسری رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ سے پہلے التحیات پڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ۔ اور فرض کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے التحیات پڑھنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں ؟ اس میں فقہاءِ کرام کااختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔ یہی حکم سنتِ مؤکدہ کی دوسری ، تیسری اور چوتھی رکعت اور سنن غیر موکدہ اور نوافل کی دوسری اور چوتھی رکعت کا ہے۔ البتہ فرض کی دوسری رکعت ، سنتِ مؤکدہ کی دوسری ، تیسری اور چوتھی رکعت اور سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کی دوسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانے سے پہلے التحیات پڑھ لی تو واجب میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " ولو قرأ التشهد في القيام إن كان في الركعة الأولى لا يلزمه شئى وإن كان في الركعة الثانية اختلف المشايخ فيه ، والصحيح أنه لا يجب ، كذا في الظهيرية . و لو تشهد في قيامه قبل قراءة الفاتحة فلا سهو عليه، وبعدها يلزمه سجود السهو ، وهو الأصح ؛ لأن بعد الفاتحة محل قراءة السورة ، فإذا تشهد فيه فقد أخر الواجب ، وقبلها محل الثناء ، كذا في التبيين ۔ ولو تشهد في الأخريين لا يلزمه السهو ، كذا فى محيط السرخسي " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 127 : کتاب الصلاۃ ، الباب الثاني عشر فی سجود السھو ) اور حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے کہ '' و لو قرأ التشهد مرتين فى القعدة الأخيرة أو تشهد قائماً أو راكعاً أو ساجداً لا سهو عليه ، منية المصلي ۔ لكن إن قرأ فى قيام الأولى قبل الفاتحة أو فى الثانية بعد السورة أو في الأخيرتين مطلقاً لا سهو عليه ، وإن قرأ فى الأوليين بعد الفاتحة والسورة أو فى الثانية قبل الفاتحة وجب عليه السجود ؛ لأنه أخر واجباً " اھ ( حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص 146 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا سجدۂ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں اور پچھلی رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر قعدۂ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ واجب ہوگیا " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 713 : سجدہ سہو کا بیان ) 

                   واللہ اعلم باالــــــصـــــواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی کریم اللہ رضوی اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

             اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. ماشااللہ بہت عمدہ جواب اللہ تعالی حضرت کی عمر میں علم میں عمل میں رزق میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے رہے آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ