کتے کو پانی پلانا کیسا ہے؟ نیز اسکا پالنا درست ہے یا نہیں



          السلام  علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

حضرات ایک سوال ھے براے مہربانی جواب عنایت فرمائیں 
ایک دوکان چکن کی ھےروڈ پر اس دوکان والے نے کتوں کے پینے کے لیے پانی کا انتظا م کیا ھے ایک برتن میں جو برتن دکان سے 6 فٹ کی دوری پر ھے کتا پالنا غلط ھے کیاوہ گنہگا ر ھو رھا ھے پانی پلا کر  
جواب کاطالب 

                         انوار احمد رضوی

=====================================
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابـــ بعون الملک الوھاب اللہم ھدایت الحق والصواب 

صورت مسئولہ میںکتا پالنا جائز نہیں ہے آج کل کچھ لوگ شوقیہ طور پر کتا پالتے ہیں جو کہ حرام ہے،،سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ کتا پالنا حرام ہے،جس گھر میں کتا ہو,اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے،اور روز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں،جیساکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ لا تدخل الملائکۃ بیتاً فیہ کلب ولا صورۃ رواہ أحمد والشیخان الترمذی والنسائی و ابن ماجہ عن ابی طلحۃ رضی اللہ عنہ ترجمہ_____↓↓فرشتے نہیں آتے اس گھر میں جس میں کتا یا تصویر ہو_(📙سنن ابن ماجہ، باب الصور فی البیت، جلد اول صفحہ ٢٥٩)اور آقاۓ دو جہاں ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ عن ابى هريرة قال قال رسول ﷺ من اقتنى كلبا فانه ينقص من عمله كل يوم قيراط الا كلب حرث او ماشية"رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کتے کو پالا اس کے اعمال حسنہ سے ہر دن ایک قیراط کم کیا جاتاہے، مگر کھیتی یا رکھ والی کا کتا،،(📘سنن ابن ماجہ، باب النھی عن اقتناء الکلب الا بکلب صید و حرث او ماشیتہ، صفحہ ٢٣٠)معلوم ہوا_______↓↓↓صرف دو قسم کے کتے کی اجازت ہے'1⃣ ایک شکاری کتا جو حاجت و منافع کے لئے ہو،، نہ کہ وہ شکاری کتا جو تفریح کے واسطے ہو وہ خود حرام ہے_2⃣ دوسرا وہ کتا جو کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالا جاۓ ،جہاں حفاظت کی سچی حاجت ہو_ ورنہ اگر مکان میں کچھ نہیں کہ چور لے جائے، یا مکان محفوظ جگہ ہے' چور کا اندیشہ نہیں_ تو وہ در اصل حفاظت کا بہانا کرکے کتے کا شوق ہے جو کہ حرام ہے(📙بحوالہ۔۔۔احکام شریعت صفحہ 62)خلاصہ_____↓↓↓اگر دوکان دار بغرض حاجت و حفاظت و منافع، پال رہا ہے تو جائز ہے ورنہ ناجائز و حرام،،یا پھر اگر وہ کسی طرح کے کتوں کو نہیں پالتا ہے بلکہ بطور ہمدردی کتوں کے پانی پینے کا انتظام کر رکھا ہے تو وہ باعث ثواب، و نیکوکار ہے،،جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستے سے جارہا تھا اس کو شدت سے پیاس لگی اور وہ پانی پینے کے لئے کنویں میں اترا جب وہ پانی پی کر کنویں سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا کیچڑ کو چاٹ رہاہے اس کو شدت سے پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی پھر وہ کنویں سے موزے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر باہر نکلا اور اس کتے کو پانی پلایا،اللّٰہ تعالیٰ نے اس شخص کے اس عمل کو اتنا پسند فرمایا کہ اس کے گناہوں کی مغفرت فرمادی،صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا چوپایوں میں بھی اجر ہے تو رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر تر جگر والے جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں اجر ہے،، (رواہ البخاری والمسلم) 

       واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالــــــصـــــواب 

از قلم؛ محمد عمران رضا ساغر خطیب وامام؛سنی نورانی مسجد ہسدرگہ چترادرگہ ضلع (کرناٹک)

            اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0