جو مسجد میں چوری کریں اس کے لئے کیا حکم ہے





           السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ

 کیافرماتے علمائے کرام ومفتیان شرع اس مسٸلہ کے بارے میں کہ جو شخص مسجد چوری کر کے پیسہ نکال لے قرآن کی پیٹی مع پاروں کے بیچدے پیٹیاں کباڑی کے یہاں بیچ آئے کیا ایسے شخص کو مسجد سے نکال نے کوئی گناہ ہے ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے مفتی صاحب اس کا جواب قرآن حدیث کی روشنی میں عطا فرمائیں عین نوازش ہوگی 

محمد اویس رضا قادری کوڑا جھان آباد فتح پور یوپی

____________________________________________
           وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

                الجواب بعون المک الوہاب 

چوری اسلام میں حرام ہے چوری کرنے کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے اور مسجد کی رقم اپنے کام میں لانا حرام ہے شخص مذکور اپنی ان حرکات کی وجہ سے فاسق معلن ہے اسکو چاہئے اعلانیہ توبہ واستغفار کرے اور آئیندہ ایسی حرکت سے دور رہے ورنہ سب مسلمان اسکا سماجی بائیکاٹ کریں اب رہا معاملہ یہ کہ اسکا مسجد میں آنا کیسا تو اگر وہ توبہ کرلے اور چوری کیا ہوا مال مسجد میں واپس کرے تو اسے مسجد میں آنے دیں لیکن اگر توبہ نہ کرے تو اسے مسجد میں نا آنے دیا جائے اور ایسے شخص کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے 

         📚بحوالہ فتوٰی قادریہ جلد اول 

               واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب 

کتبہ : احقر العباد محمد امین قادری النعیمی رضوی غفرلہ

               اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے