یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھانا کیسا ہے




            السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کہ کسی یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانا کیسا ہے اور کھانے والے پر کیا حکم شرع ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

    المستفتی محمد یونس رضوی مہاراشٹر الھند

    :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                   الجواب بعون المک الوہاب

یتیموں کا مال کھانا ناجائز وحرام ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ *اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ ؕ وَسَيَـصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا۞ترجمہ لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 10)
اور دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاٰ تُوا الۡيَتٰمٰٓى اَمۡوَالَهُمۡ‌ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ‌ اِلٰٓى اَمۡوَالِكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِيۡرًا‏‏ ۞ترجمہ اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 2)ان آیات کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ یتیموں کے مال کو کھانا ناجائز اور بڑا گناہ ہے اور جن جن لوگوں نے کھایا ہے وہ انھیں واپس کر دیں اور توبہ و استغفار کریں اور اسی طرح سے فتاویٰ خلیلیہ جلد سوم صفحہ نمبر 126 پر ہے. 

              واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

            اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے