کیا جمعہ وعیدین میں سجدہ سہو واجب نہیں ہے





             السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکتہ

 جملہ اہل علم حضرات سے گذا رش ہے کہ اگر جمعہ اور عیدین کی نماز میں کو ءی وا جب بھو ل کر چھوٹ جا ءے تو کیا سجدہ سہو کریں گے یا نہیں اگر نہیں تو کیوں اور اگر نہیں کرنا چا ہیے تھا لیکن کر لیا تو نماز ہو گی یا نہیں با حوالہ جواب عنا یت فر ما ءیں کرم نوا زی ہو گی
       
          الســــاٸل تنو یر حسین رضوی کٹیہا ری


          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

               الجواب بعون الملک الوہاب 

صورت مسؤلہ میں جمعہ وعیدین میں اگرکوئی واجب سہومیں ترک ہوجائے اورلوگوں کی تعدادزیادہ ہوتوسجدہ سہو نہ کرےاوراگرکرلیاجب بھی حرج نہیں جب لوگوں کی تعدادزیادہ ہوتونہ کرناہی بہتر ہے

جیساکہ ممتازالفقہاءسرکارصدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں

کہ جمعہ وعیدین میں سہوواقع ہوااورجماعت کثیرہوتوبہتریہ ہےکہ سجدہ سہونہ کرے

بہارشریعت حصہ چہارم 

اور رہایہ کہ کیوں نہیں کرتےہےتواس کی علت یہی ہےکہ تعداد زیادہ ہوتی ہے اگرسجدہ سہو کیلئے سلام پھیرےگاامام جوپاس میں ہونگےوہ توامام کودیکھ کرایک ہی طرف پھیرکرسجدہ سہو کرلےگےاورجودورہونگے وہ دونوں ہی طرف پھیردیگےاس لئے زیادہ انسب یہی ہےکہ سجدہ سہو نہ کیاجائے

                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

          محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

              اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے