امام کاردبدمذہباں نہ کرناکیساہے




           السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے اور وہ وہابیوں دیوبندیوں کارد نہیں کرتا جسکے کارن لوگ وہابیوں دیوبندیوں سے رشتہ داری کرتے ہیں اور وہابیوں دیوبندیوں کی دعوتوں میں جانا جائز سمجھتے ہیں اور انکو اپنی دعوتوں میں بلاتے ہیں ایسے وقت میں امام یا عالم کا خاموش رہنا کیسا ہے رہنمائی فرمائیں
               سائل محمد شمشادرضا حشمتی

              وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

              الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب

برتقدیرصدق مستفتی امام وعالم پرلازم ہےکہ باوصف قدرت ایسے موقع پرلوگوں کوانکےباطل عقائدسےآگاہ کریں اورحکم شرع سنائیں کہ یہ اعلیٰ فرائض دین سےہےورنہ گنہگارہونگے

جیساکہ حدیث پاک میں ہے

من رای منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ذلک اضعف الایمان

ترجمہ۔۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایاجوتم سےکسی برائی کودیکھےتواس کوہاتھ سےمٹائےاوراگرہاتھ سےطاقت نہ توزبان سےاگراس سےبھی طاقت نہ رکھےتوپھردل سےبراجانےاوریہ کمزورترین ایمان ہے 

صحیح مسلم شریف کتاب الایمان جلداول صفحہ 51
مشکوٰۃ شریف صفحہ 436

فتاوی عالمگیری میں ہے

ان کان یعلم باکبررایہ انہ لوامر بالمعروف یقبلون ذلک منہ ویمتنعونعل عن المنکرفالامرواجب علیہ ولایسعہ ترکہ ولوعلم انھم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضرباولاشتمافھوبالخیاروالامرافضل ۔۔اختصارا

یعنی اگرگمان غالب ہےکہ نصیحت کوقبول کرینگےاوربرائی سےرک جائینگےتونصیحت کرنااورسمجھاناواجب ہے خاموش رہناجائزنہیں اوراگرجانتاہےکہ نصیحت کوقبول نہ کرینگےاورضرب وشتم کااندیشہ بھی نہیں تواختیارہےاورنصیحت کرناافضل ہے

عالمگیری جلدپنچم صفحہ 352تا353زکریابکڈپویوپی انڈیا

*اورسیدی سرکاراعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتےہیں*

عالم دین کاامربالمعروف ونہی عن المنکر کرنابندگان خداکودینی نصیحتیں کرناجسےوعظ کہتےہیں 
ضروراعلیٰ فرائض دین سےہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا
کنتم خیراامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکرتؤمنوں باللہ

تم سب امتوں سےبہتر ہوجولوگوں میں ظاہرہوئیں حکم دیتےہوبھلائی کااورمنع کرتےہوبرائی سےاورایمان لاتےہواللہ پر

فتاوی رضویہ شریف جلدنہم نصف اول صفحہ 207رضااکیڈمی ممبئی 

دوسری جگہ تحریرکرتےہیں 

کہ سرکارصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپہلانقص بنی اسرائیل میں یہ آیاکہ ان میں ایک گناہ کرتااوردوسرااسےمنع توکرتامگراس کےنہ ماننےپراس کےپاس اٹھنابیٹھنااس کےساتھ کھاناپینانہ چھوڑتااسکے سبب اللہ تعالیٰ نےان سب کےدل یکساں کردئے اوران سب پرلعنت اتاری 

رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ عن ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ 

اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا

کانوالایتناھون عن منکرفعلوہ لبئس ماکانوایفعلون

یعنی ۔۔ان پرلعنت اس لئےہوئی کہ آپس میں ایک دوسرےکوبرےکاموں سےروکتے نہ تھےبیشک یہ ان کابہت ہی براکام تھا


فتاوی رضویہ شریف جلدششم صفحہ 404رضااکیڈمی 

بحوالہ کنزالریحان فی فتاوی ابی النعمان المعروف فتاوی مشاھدی جلداول صفحہ 82تا84

                  واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

           محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

               اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے