السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جو لوگ قرآن شریف کو۔ مجہول، پڑھتے ہیں اس کے بارے شریعت کیا کہتی ہے نیز جو لوگ پہلے سے مجہول پڑھتے آرہے ہیں اب وہ کیا کریں؟
سائل محمد زاہد لکھنوی
____________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون المک الوہاب
1️⃣ قرآن کو مجہول اور غلط پڑھنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے علماء کرام فرماتے ہیں کہ:قرآن کو ایسے انداز میں پڑھنا کہ حروف بدل جائیں حرکات بگڑ جائیں یا معنی تبدیل ہو جائیں مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔
اگر غلطی سے معنی بدل جائیں سخت حرام، گناہِ کبیرہ اور قرآن کی بے ادبی ہے
فتاویٰ عالمگیری میں ہے جس شخص کی قراءت میں ایسے غلطیاں ہوں جو معنی کو بدل دیں، اُس پر لازم ہے کہ صحیح پڑھنا سیکھے، ورنہ گناہگار ہوگا
2️⃣ پہلے سے مجہول پڑھنے والے کی دو حالتیں ہیں (الف) غلطی جان بوجھ کر ہو تو گناہِ کبیرہ
جو شخص جانتے ہوئے غلط ہی پڑھتا رہے، سیکھنے کی کوشش نہ کرے
وہ سخت گناہگار ہے(ب) غلطی نہ جاننے کی وجہ سے ہو تو معاف ہے مگر سیکھنا لازم ہے
جو لوگ بچپن سے ایسے پڑھتے آرہے ہوں اور انہیں معلوم نہ ہو کہ یہ غلط ہے
ان پر گناہ نہیں مگر اب جب علم آگیا تو صحیح تجوید سیکھنا واجب ہے
علماء فرماتے ہیں جب غلطی کا علم ہو جائے تو اس کی اصلاح کرنا فرضِ عین ہے۔
3️⃣ اب وہ کیا کریں؟ (عملی حل) 1. صحیح تجوید سیکھیں ماہر قاری یا عالم سے چند دن پڑھنے سے غلطیاں دور ہو جاتی ہیں 2. تلاوت آہستہ کریں جلدی میں اکثر غلطیاں ہو جاتی ہیں 3. قرآن ایپس/آڈیوز سے مشق کریں لفظ بہ لفظ تلاوت حرف کی ادائیگی مخارج کی پہچان یہ سب بہت مددگار ہوتا ہے 4. جہاں غلطی یاد نہ رہے وہاں کسی سے سنوا کر درست کروائیں
خلاصہ مجہول و غلط پڑھنا ناجائز ہےمعنی بدل جائے تو سخت حرام ہے پہلے سے ایسے پڑھنے والوں پر گناہ نہیں، مگر اب سیکھنا فرض ہے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ قرآن درست پڑھنا سیکھے
📚کتب فقہ
واللہ اعلم باالــــــصـــــواب
کتبـــــــــــــــــــــــــہ 👈ناچیز محمد شفیق رضا رضوی
اسلامی مـــعلــومـات گـــــروپ
