مقتدی قعدہ اولی میں تشہد پورا کر لیں تو کیا حکم ہے



         السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال یہ ہے کہ مقتدی قعدہ اولٰی میں اگر التحیات پوری پڑھ کر جلدی فارغ ہو گیا تو اب خاموش رہے یا کچھ پڑھ سکتا ہے؟مقتدی قعدہ اخیرہ میں اگر التحیات درود و دعا پوری پڑھ کر فارغ ہو گیا تو اب خاموش رہے یا کچھ پڑھ سکتا ہے؟مسبوق مقتدی قعدہ اخیرہ میں التحیات پوری پڑھنے کے بعد اب خاموش رہے یا کچھ پڑھ سکتا ہے؟علماء کرام اس کے بارے میں رہنمائی فرماکر سائل کی تشنگی کا سامان کریں جزاك الله خيرا واحسن الجزاء

         ذوالفقارعلی قادری کراچی۔ پاکستان
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

         وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ 

             الجواب۔بعون الملک الوھاب 

مقتدی امام سے پہلے قعدہ اولی میں اگر التحیات پڑھ کر فارغ ہوگیا تو وہ خاموش بیٹھا رہے ۔یاالتحیات کو شروع سے پھر پڑھے ۔یاکلمہ شہادت کی تکرار کرے ۔مقتدی قعدہ اخیرہ میں امام سے پہلے اگر التحیات و درودشریف و دعاء پوری پڑھ کر فارغ ہوگیا تو اب وہ خاموش بیٹھا رہے ۔یا تشھد کو شروع سے پڑھے ۔یا کلمہ شہادت کی تکرار کرے ۔ یاجو دعاء یاد ہو وہ پڑھے ۔اور مسبوق مقتدی قعدہ اخیرہ میں التحیات پوری پڑھنے کے بعد چاھے خاموش بیٽھا رہے ۔یاتشھد کو شروع سے پڑھے ۔یاکلمہ شہادت کی تکرار کرے ۔
مگربہتر یہ ہے کہ مقتدی پڑھنے میں جلدی نہ کرے اورامام کےساتھ فارغ ہونے کی کوشش کرے ۔جیساکہ ایک سوال کے جواب میں علامہ مفتی محمد سمیرالدین حبیبی مصباحی مدظلہ لکھتے ہیں ،، امام سے پہلے اگر مقتدی تشھد درودشریف اور دعاء سے فارغ ہوجاۓ تو چاھے خاموش بیٹھارہے ۔ یاتشھد کو شروع سے پڑھے یاکلمہ شہادت کی تکرار کرے یاکوئ اور دعاء پڑھے جویاد ہو اور صحیح یہ ہے کہ پڑھنے میں جلدی نہ کرے بلکہ اس طرح پڑھے کہ امام کے ساتھ فارغ ہو ۔حضور مفتی اعظم ھند علیہ الرحمةوالرضوان *غنیه*کے حوالہ سے تحریرفرماتےھیں ،،اذافرغ من التشھد قبل سلام الامام یکروہ من اوله وقیل یکروہ کلمة الشھادة وقیل تسکت وقیل یاءتی بالصلاة والدعاء والصحیح انه یترسل لیفرغ من التشھد عند سلام الامام اھ فتاوی مصطفویہ جلددوم صفحہ ٧٢ مصدقہ استاذالفقہاء حضورفقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمدالامجدی علیہ الرحمةوالرضوان فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ ١٠١ حضورصدرالشریعیہ بدرالطریقہ علامہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمةوالرضوان تحریرفرماتےھیں ،،کہ رہاامام کے قعدہ اخیرہ میں مسبوق کیاکرے ۔اس میں فقہاء کے متعدداقوال ہیں ۔بعض یہ فرماتےھیں کہ ٹھہر ٹھہر کر تشھد کے الفاظ اداکرے کہ امام کے درودشریف ودعاء سے فارغ ہونے تک یہ اپناتشھد ختم کرے ۔اوربعض فقہاء یہ فرماتے ہیں کہ مسبوق اپنے تشھد سے فارغ ہونے کے بعد کلمہ شہادت یعنی اشھدان لاالہ الااللہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ کی تکرار کرے۔یہاں تک کہ امام سلام پھیردے ۔اوربعض فقہاء یہ فرماتےھیں کہ سکوت کرے ۔درمختار میں ہے،، واماالمسبوق فیترسل لیفرغ عندسلام امامه وقیل یتم یکررکلمة الشھادة اھ۔۔فتاوی عالمگیری میں ہے ،، عن ابن شجاع انه یکررالتشھد ای قوله اشھدان لااله الاالله وھوالمختار کذا فی الغیاثیة والصحیح ان المسبوق یترسل فی التشھد حتی یفرغ عندسلام الامام کذافی الوجیرللکردری وفتاوی قاضیخان وھکذا فی الخلاصة      و فتح القدیر اوربہتر یہ معلوم ہوتاہے کہ ٹھہر ٹھہر کر مسبوق تشھد پڑھے اور باوجود اس کے امام کے فارغ ہونے سے پہلے اگر تشھد سے فارغ ہوگیا تو کلمہ شہادت کی تکرار کرے کہ ترسّل سے مقصد یہی تھا کہ یہ بیکار نہ رہے ۔فتاوی امجدیہ جلداول صفحہ ١٨١لھذا مقتدی چاھے مدرک ہو یا مسبوق یالاحق کوئ بھی ہو تشھد و درودشریف ودعاء ٹھہر ٹھہر کرپڑھنا چاھیۓ تاکہ اسے اور کچھ پڑھنے کی حاجت نہ ہو۔


              وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب 

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

                     کتبـــــــــــــــــــــــــہ 

العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ  دارالعلوم اھلسنت محی الاسلام بتھریاکلاں ڈومریا گنج سدھارتھنگر یوپی ٢٢ جمادی الاخری ١٤٤١ھ ١٧ فروری ٢٠٢٠ ء

             اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے